منگل , مارچ 17 2026

حوالہ ہنڈی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کا فیصلہ

حکومت نے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا، بڑے کاروباری افراد اور غیر قانونی ترسیلات میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ آپریشن شروع ہوگا۔

حکومت نے منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف ملک گیر سطح پر بڑا کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں بڑے کاروباری گروپوں اور غیر قانونی رقوم کی ترسیل میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں مالیاتی نظام کو شفاف بنانے اور غیر قانونی ترسیلات کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک رقوم بھجوانے والے افراد، کمپنیوں اور اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی بااثر شخصیت یا بڑے کاروباری گروپ کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام کے مطابق بیرون ملک رقوم کی ترسیل صرف بینکنگ چینلز اور دیگر قانونی ذرائع سے کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ منی چینجرز کے نظام کو بھی سخت نگرانی میں لایا جائے گا تاکہ غیر رجسٹرڈ لین دین کو روکا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار نے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے اور اس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر متاثر ہوتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 30 ارب ڈالر سے زائد رہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر قانونی چینلز کے باعث اس سے بھی بڑی رقم باضابطہ نظام میں شامل نہیں ہو پاتی۔ حکام کے مطابق حوالہ ہنڈی کے خاتمے سے سرکاری چینلز کے ذریعے ترسیلات میں اضافہ متوقع ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرون ممالک رقوم بھجوانے کے پورے نظام کو فول پروف بنایا جائے گا اور ہر سطح پر نگرانی بڑھائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی تحقیقاتی ادارے پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو منی لانڈرنگ، غیر قانونی ترسیلات اور مشکوک مالی لین دین کے خلاف کارروائی کی نگرانی کرے گا۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم کی ترسیل کے موجودہ نظام پر بریفنگ دی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے اور وفاقی سیکرٹری خزانہ نے بھی اقدامات سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

پاکستان ماضی میں بھی منی لانڈرنگ کے معاملے پر عالمی دباؤ کا سامنا کر چکا ہے اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل رہنے کے دوران حکومت کو مالیاتی قوانین سخت کرنا پڑے تھے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق حالیہ کریک ڈاؤن کا مقصد نہ صرف غیر قانونی ترسیلات کو روکنا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کو بھی مضبوط بنانا ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری اور مالی تعاون میں اضافہ ہو سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اقدامات کے بعد حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورکس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں متوقع ہیں اور بڑے منی لانڈرز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ شفاف مالیاتی نظام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اس لیے منی لانڈرنگ کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کیا جائے گا اور اسٹیٹ بینک اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر اس عمل کی نگرانی کریں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سینیٹ کمیٹی اجلاس خدشہ: ایل این جی قلت کا سامنا

سینیٹ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی کمی کا خدشہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے