جمعرات , اپریل 2 2026

ایکس پر ویڈیو لنک کاپی فیچر ختم، صارفین پریشان

31 مارچ کے بعد ایکس صارفین براہ راست ویڈیو لنک کاپی نہ ہونے پر مایوس ہیں، جبکہ پلیٹ فارم نے تاحال وضاحت نہیں دی

X (Twitter) کے متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ 31 مارچ کے بعد وہ براہ راست ویڈیو لنکس کاپی کرنے کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں، جس سے خاص طور پر فوری شیئرنگ متاثر ہوئی ہے۔

یہ مسئلہ اس وقت نمایاں ہوا جب صارفین نے دیکھا کہ ویڈیوز خودکار طور پر چلنے لگتی ہیں اور ان کا الگ لنک کاپی کرنے کا آپشن غائب ہے۔ اس تبدیلی کے باعث کھیلوں کے گولز، میمز اور اہم ویڈیو کلپس کو فوری طور پر شیئر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

کھیلوں سے متعلق صارفین اور جرنلسٹس سب سے زیادہ متاثر دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ وہ براہ راست ویڈیو کلپس کے ذریعے لائیو لمحات اپنے ناظرین تک پہنچاتے ہیں۔ اب انہیں مکمل پوسٹ کا لنک شیئر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے صارف کا تجربہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔

کچھ صارفین کے مطابق یہ فیچر اب بھی محدود اکاؤنٹس پر دستیاب ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر مرحلہ وار تبدیلی، ٹیسٹنگ یا وقتی خرابی ہو سکتی ہے۔ تاہم پلیٹ فارم کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

کمپنی، جس کی ملکیت Elon Musk کے پاس ہے، نے 2023 میں ری برانڈنگ کے بعد متعدد متنازع تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں، جن میں API رسائی، مونیٹائزیشن ماڈلز اور الگورتھم میں ردوبدل شامل ہیں۔

ڈیجیٹل رپورٹ 2025 کے مطابق، دنیا بھر میں 60 فیصد سے زائد سوشل میڈیا صارفین روزانہ ویڈیو مواد دیکھتے ہیں، جبکہ مختصر ویڈیو کلپس سب سے زیادہ شیئر کیے جانے والے فارمیٹس میں شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق آسان شیئرنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا بنیادی عنصر ہے۔

صارفین نے دیگر فیچرز کے غائب ہونے کی بھی نشاندہی کی ہے، جن میں سرکلز، آڈیو ٹویٹس اور جی آئی ایف ہسٹری شامل ہیں۔ اس سے پلیٹ فارم کی مجموعی سمت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماضی میں ٹوئٹر اپنی فوری معلومات کی ترسیل اور کھلے شیئرنگ ماڈل کی وجہ سے مقبول رہا ہے۔ 2024 کے ایک سروے کے مطابق، بڑی مارکیٹس میں تقریباً 20 فیصد صارفین خبروں کے لیے اس پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ایک متبادل طریقہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ صارفین مکمل پوسٹ کا لنک کاپی کر کے ویڈیو ایمبیڈ کریں، تاہم یہ طریقہ کم مؤثر اور زیادہ وقت طلب ہے۔

اگر یہ مسئلہ برقرار رہتا ہے تو اس سے کانٹینٹ کریئیٹرز، صحافیوں اور اسپورٹس میڈیا کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں، جو فوری شیئرنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ فی الحال صارفین X (Twitter) کی جانب سے باضابطہ وضاحت اور ممکنہ اپ ڈیٹ کے منتظر ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اشارہ

چند ہفتے اہم، فوجی دباؤ بڑھانے کی دھمکی امریکی صدر Donald Trump نے Iran کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے