جمعرات , اپریل 2 2026

مارچ 2026 افراط زر 7.3 فیصد تک بڑھ گیا

مارچ 2026 میں مہنگائی میں معمولی تیزی، خوراک اور تھوک قیمتوں میں اضافہ نمایاں رہا

پاکستان میں صارف قیمت اشاریہ یعنی سی پی آئی افراط زر مارچ 2026 میں سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد تک پہنچ گیا، جو فروری میں 7.0 فیصد تھا، جبکہ گزشتہ سال مارچ میں یہ صرف 0.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، یہ اعدادوشمار Pakistan Bureau of Statistics نے جاری کیے۔

ماہانہ بنیاد پر سی پی آئی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جو فروری کے 0.3 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جبکہ مارچ 2025 میں یہ اضافہ 0.9 فیصد تھا۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ قلیل مدت میں قیمتوں کا دباؤ دوبارہ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر خوراک اور توانائی کے شعبوں میں۔

شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 7.4 فیصد تک پہنچ گئی، جو فروری میں 6.8 فیصد تھی اور گزشتہ سال اسی مہینے میں 1.2 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر شہری مہنگائی 1.3 فیصد بڑھی، جو پہلے مہینے کے 0.3 فیصد سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق رمضان کے دوران طلب میں اضافے اور ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے سے شہری قیمتوں پر دباؤ آیا۔

دیہی علاقوں میں مہنگائی کی سالانہ شرح معمولی کمی کے ساتھ 7.2 فیصد رہی، جبکہ فروری میں یہ 7.3 فیصد تھی۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر 1.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو فروری کے 0.3 فیصد سے زیادہ ہے۔ دیہی معیشت میں زرعی لاگت بڑھنے اور سپلائی چین مسائل کی وجہ سے قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

حساس قیمت اشاریہ یعنی ایس پی آئی میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو مارچ میں سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد بڑھا، جبکہ فروری میں یہ 4.8 فیصد تھا۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.3 فیصد کمی ظاہر کر رہا تھا۔ ماہانہ بنیاد پر ایس پی آئی میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جو فروری میں معمولی کمی کے بعد بحالی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اشاریہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

تھوک قیمت اشاریہ یعنی ڈبلیو پی آئی میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی، جو سالانہ بنیاد پر 6.7 فیصد بڑھا، جبکہ فروری میں یہ صرف 1.0 فیصد تھا اور گزشتہ سال منفی 1.6 فیصد تھا۔ ماہانہ بنیاد پر ڈبلیو پی آئی میں 5.9 فیصد اضافہ ہوا، جو پیداواری لاگت میں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تھوک سطح پر قیمتوں میں اضافہ جلد ہی صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا رجحان گزشتہ دو برسوں میں انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے، خاص طور پر 2023 میں جب افراط زر 30 فیصد سے تجاوز کر گیا تھا۔ State Bank of Pakistan کے مطابق سخت مانیٹری پالیسی اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں کچھ حد تک کمی آئی، لیکن بنیادی دباؤ اب بھی موجود ہے۔

مرکزی بینک کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی اس کے ہدف 5 سے 7 فیصد سے زیادہ رہی۔ خوراک کی قیمتیں بدستور مہنگائی میں بڑا کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں آمدنی کا بڑا حصہ ضروری اشیاء پر خرچ ہوتا ہے۔

حکومتی اقدامات، جن میں سبسڈی میں کمی اور توانائی کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں، مہنگائی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ یہ اصلاحات International Monetary Fund کے پروگرام کے تحت کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد مالی استحکام حاصل کرنا ہے، مگر قلیل مدت میں یہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے، اور یہ مہنگائی کے رجحان پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ بہتر فصلیں اور سپلائی میں بہتری عام طور پر قیمتوں کو مستحکم کرتی ہیں، تاہم حالیہ موسمی مسائل اور کھاد و توانائی کی بڑھتی لاگت نے اس اثر کو محدود کیا ہے۔

عالمی سطح پر تیل اور خوراک کی قیمتوں میں تبدیلی بھی پاکستان کی مہنگائی کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ ملک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق شرح مبادلہ میں معمولی تبدیلی بھی مقامی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ اعدادوشمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پالیسی ساز شرح سود میں ممکنہ نرمی پر غور کر رہے ہیں۔ مرکزی بینک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ مہنگائی کم ضرور ہوئی ہے مگر خطرات بدستور موجود ہیں۔

آنے والے مہینوں میں ماہرین کا خیال ہے کہ مہنگائی معتدل سطح پر رہ سکتی ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اضافے اور مالی اصلاحات سے خطرات برقرار ہیں۔ مارچ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی میں کمی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، خاص طور پر اگر تھوک قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا۔ پاکستان میں سی پی آئی افراط زر آئندہ مہینوں میں معاشی پالیسی کا مرکزی محور رہے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

لاہور میں آج پی ایس ایل کا اہم مقابلہ

پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں میچ میں حیدرآباد کنگز مین اور ملتان سلطانز آج لاہور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے