
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول اب 428 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر جاری جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں ایک بھونچال آگیا ہے۔ پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں ہے۔
انہوں نے قوم سے اتحاد اور ڈسپلن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے کر رہی ہے، حالانکہ اس طوفان کو برپا کرنے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔

وزیر نے بتایا کہ پاکستان 90 فیصد توانائی دبئی اور عمان کی منڈیوں سے حاصل کرتا ہے، جہاں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری کے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، سرکاری گاڑیوں پر پیٹرول کی حد مقرر کرنا اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی شامل ہیں تاکہ عام آدمی کو اس تپش سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یکم مارچ سے اب تک حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے 129 ارب روپے خرچ کر دیے ہیں۔ سپلائی کا زیادہ تر حصہ آبنائے ہرمز سے آتا ہے، اس لیے متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ جن ممالک کی جیبیں بھری ہوئی تھیں، وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور پمپوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ تاہم پاکستان کی حکومت نے بروقت فیصلے کر کے ایندھن کی سپلائی میں کوئی تعطل آنے نہیں دیا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلے پائیدار ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، اگرچہ عوام پر اس کا براہ راست اثر پڑے گا۔نوٹ: نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
UrduLead UrduLead