پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی جبکہ پاکستان نے ایران کے حالیہ اقدام کو امن کے لیے تعمیری قدم قرار دیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم Ishaq Dar نے کہا کہ ایران کی جانب سے مخصوص بحری راستہ کھولنا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سمت اہم پیش رفت ہے۔
ایک بیان میں اسحاق ڈار نے مزید کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مل گئی ہے، روزانہ 2 جہاز آبنائے ہرمز عبور کریں گے
ایران نے اپنی بندرگاہی پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے ایک ملک کے پرچم بردار جہازوں کو بڑی تعداد میں گزرنے کی اجازت دی، جو 2 مارچ سے جاری بندش کے بعد پہلا بڑا اقدام ہے۔ یہ بندش امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ردعمل میں نافذ کی گئی تھی جس نے عالمی تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل رسد کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے، جیسا کہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں۔ اس راستے کی بندش کے باعث برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
اس بحران کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے جبکہ قطر سے آنے والے 200 ہیلیم کنٹینرز بھی پھنس گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 35 سے 48 دنوں میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو شدید قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ ہیلیم چِپ مینوفیکچرنگ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سعودی عرب نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنی مشرق-مغرب پائپ لائن کی ترسیل بڑھا کر 70 لاکھ بیرل یومیہ کر دی ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ متبادل مکمل طور پر عالمی طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک کے لیے جو تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ایشیا اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اپنی توانائی ضروریات کے لیے خلیجی تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو مہنگائی میں مزید اضافہ اور اقتصادی سست روی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
تاریخی طور پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی رہی ہے۔ 2019 میں بھی اسی نوعیت کے واقعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جس سے توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی تھی۔ موجودہ صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس میں بڑے عالمی طاقتوں کی براہ راست شمولیت شامل ہے۔
ادھر سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور مختلف ممالک پس پردہ مذاکرات کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے بحری راستوں میں مزید نرمی کی گئی تو عالمی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک اس پیش رفت کو خطے میں امن کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead