اتوار , مارچ 29 2026

مشرق وسطیٰ تنازع: اسلام آباد میں آج مذاکرات

اسحاق دار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو

پاکستان نے اتوار کو سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اعلیٰ سطح کے چار فریقی مذاکرات کی میزبانی کی، جو مشرق وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔

ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق دار کی زیر صدارت یہ دو روزہ مشاورت 29 سے 30 مارچ تک جاری رہے گی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حکان فدان اور مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبد اللطیف نے شرکت کی۔

وزرائے خارجہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق، ان مذاکرات کا مقصد علاقائی تناؤ کو کم کرنے، سیز فائر کی کوششوں اور سفارتی راستوں پر گہرے تبادلہ خیال کرنا ہے۔

یہ ملاقات ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے حالیہ مشاورتی اجلاس کی توسیع ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ کا قیمت $95 فی بیرل سے تجاوز کر چکا ہے، جو سپلائی لائنز میں خلل کا خدشہ ظاہر کرتا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور تهران کے درمیان بیک چینل کردار ادا کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری سے امریکہ کی طرف سے پیش کیے گئے 15 نکاتی تجاویز ایران تک پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم، تهران نے کچھ شرائط پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی فریم ورک علاقائی خودمختاری کا احترام کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک گھنٹے سے زائد طویل ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ، ڈپٹی پرائم منسٹر/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق دار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اسحاق دار نے ڈی ایسکلیشن کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے تمام حملوں اور دشمنیوں کے خاتمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔

پاکستان اپنے تاریخی کردار کی بنیاد پر اس بحران میں نیوٹرل فیسیلیٹیٹر کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ماضی میں امریکہ-طالبان مذاکرات میں بھی اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔معاشی اعتبار سے بھی یہ معاملہ پاکستان کے لیے اہم ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے زائد ہے۔

ترکیہ اور سعودی عرب علاقائی استحکام میں کلیدی کردار رکھتے ہیں، جبکہ مصر سوئز کینال کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔

ترک وزیر خارجہ حکان فدان نے کہا کہ یہ میٹنگ اصل میں انقرہ میں ہونے والی تھی، لیکن شیڈولنگ کی وجہ سے اسلام آباد منتقل کی گئی۔مذاکرات پیر تک جاری رہیں گے اور سیز فائر میکانزم یا اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق رائے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ان مذاکرات کا نتیجہ آنے والے ہفتوں میں علاقائی سفارت کاری کو متاثر کرے گا۔ پاکستان کی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے تمام فریقوں سے مصروفیت اس کوشش کی کامیابی کے لیے فیصلہ کن ہوگی۔صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور عالمی منڈیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز ممکنہ نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آبنائے ہرمز بحران، تیل قیمتیں 114 ڈالر تک پہنچیں

پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے