اعلان سے چند منٹ پہلے اربوں ڈالر کی شرطوں نے اندرونی معلومات کے شبہات کو جنم دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اچانک بیان سے قبل تیل کی عالمی منڈی میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، جس نے ممکنہ اندرونی معلومات کے استعمال پر سوالات کھڑے کر دیے۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان سے تقریباً 15 منٹ پہلے تیل کے فیوچر معاہدوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے بعد قیمتیں اچانک گر گئیں۔
بی بی سی کی جانب سے مارکیٹ ڈیٹا کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ اعلان سے پہلے تاجروں نے بڑے پیمانے پر شرطیں لگائیں۔ اعلان کے فوراً بعد تیل کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد کمی ہوئی، جس سے ان سرمایہ کاروں کو نمایاں فائدہ پہنچا جنہوں نے قیمتوں میں کمی پر شرط لگائی تھی۔
نیو یارک مرچنٹائل ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق ایسٹرن ٹائم کے مطابق صبح 6 بج کر 49 منٹ پر ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے 734 معاہدے ہوئے۔ ایک منٹ کے اندر یہ تعداد بڑھ کر 2168 ہو گئی، جس کی مالیت تقریباً 17 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اسی دوران برینٹ خام تیل کے سودوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جہاں تجارت کا حجم چند منٹوں میں 20 سے بڑھ کر 1650 معاہدوں سے تجاوز کر گیا۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق اس وقت عام طور پر تجارت کا حجم کم ہوتا ہے، جس سے یہ سرگرمی مزید مشکوک بن جاتی ہے۔ ایکس اینالسٹس کے چیف آئل تجزیہ کار مکیش سہدیو نے کہا کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کسی سنجیدہ پیش رفت کے آثار موجود نہیں تھے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں کمی پر بڑی شرطیں لگانا غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی ہے اور کشیدگی کے مکمل حل کی کوشش جاری ہے۔ اس بیان کے بعد تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
تاہم چند گھنٹوں بعد ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط معلومات قرار دیا، جس کے بعد تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ خبریں مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جو کسی بھی جغرافیائی کشیدگی کے دوران قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو اس کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں کمی آئی۔
پیر کے روز امریکی مارکیٹ کھلنے سے قبل جاری ہونے والے بیان نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ سرمایہ کاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسٹاک فیوچرز خریدے، جس سے ایس اینڈ پی 500 اور یورو سٹاکس 50 جیسے اشاریوں میں اضافہ ہوا۔
ویلتھ مینجمنٹ فرم کے ماہرین کے مطابق اعلان سے پہلے ہونے والی بڑی سرمایہ کاری اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کچھ مارکیٹ شرکاء کو پیشگی معلومات حاصل ہو سکتی تھیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا اور حکام نے تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اگر کسی اہلکار نے اندرونی معلومات سے فائدہ اٹھایا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن نے اس معاملے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
برطانیہ کی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی کے سربراہ نکھل راٹھی نے کہا کہ ادارہ مارکیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ غلط استعمال کی صورت میں شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مالیاتی منڈیوں میں غیر معمولی سرگرمی کو سیاسی واقعات سے جوڑا گیا ہو۔ جنوری میں کرپٹو پیش گوئی پلیٹ فارمز پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے مستقبل سے متعلق شرطیں لگائی گئیں، جن سے کچھ سرمایہ کاروں نے بڑی رقم کمائی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی منڈی، جہاں قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی عالمی معیشت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں ریگولیٹری اداروں کی تحقیقات اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا ٹرمپ کے بیان سے قبل ہونے والی تجارت محض اتفاق تھی یا اس کے پیچھے اندرونی معلومات کا کردار تھا، جبکہ ایران سے متعلق کشیدگی بدستور عالمی تیل مارکیٹ کی سمت کا تعین کرتی رہے گی۔
UrduLead UrduLead