نیو میکسیکو جیوری نے میٹا کو صارفین کے تحفظ میں ناکام قرار دے دیا

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی جیوری نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے خلاف تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اسے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور جنسی استحصال کے خطرات چھپانے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ فیصلے کے تحت کمپنی کو بھاری مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق تقریباً سات ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے میں جیوری نے ریاستی پراسیکیوٹرز کے مؤقف کی توثیق کی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ میٹا نے صارفین، خاص طور پر کم عمر صارفین، کی حفاظت پر منافع کو ترجیح دی اور پلیٹ فارمز پر موجود خطرات سے متعلق مکمل شفافیت اختیار نہیں کی۔
عدالت نے میٹا، جو فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی ہے، کو ریاست کے انفیئر پریکٹسز ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کمپنی نے اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال اور ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے متعلق معلومات کو دانستہ طور پر چھپایا۔
جیوری نے اپنے فیصلے میں میٹا کو ہزاروں خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 375 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ریگولیٹری کارروائیوں کی ایک اہم مثال ہے۔
یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل اسکرین ٹائم، ہراسانی اور نامناسب مواد تک رسائی کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں حالیہ برسوں کے دوران ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت قوانین متعارف کرانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کانگریس میں بھی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق کئی بل زیر غور ہیں، جن کا مقصد کمپنیوں کو زیادہ ذمہ دار بنانا ہے۔
میٹا اس سے قبل بھی ڈیٹا پرائیویسی اور صارفین کے تحفظ سے متعلق تنازعات کا سامنا کر چکی ہے۔ 2018 میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کے بعد کمپنی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد اس کی پالیسیوں اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیو میکسیکو کا یہ فیصلہ دیگر ریاستوں اور ممالک میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات کو تقویت دے سکتا ہے۔ اس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
آگے چل کر یہ فیصلہ سوشل میڈیا انڈسٹری کے ریگولیٹری فریم ورک پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں تاکہ صارفین، خصوصاً بچوں، کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
UrduLead UrduLead