اتوار , نومبر 30 2025

میٹا پر ذہنی صحت سے متعلق تحقیق دبانے کا الزام، امریکی اسکول ڈسٹرکٹس کے نئے انکشافات

امریکی اسکول ڈسٹرکٹس کی جانب سے میٹا اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر کلاس ایکشن مقدمے میں سامنے آنے والی نئی عدالت فائلنگز کے مطابق میٹا نے اس وقت اپنی داخلی تحقیق روک دی جب شواہد ملے کہ فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کی ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال رہے تھے۔

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ 2020 میں “پروجیکٹ مرکری” کے نام سے کیے گئے ایک تجربے میں میٹا نے سروے فرم نیلسن کے ساتھ مل کر صارفین پر سوشل میڈیا کے اثرات جانچنے کی کوشش کی۔ تحقیق سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جن افراد نے ایک ہفتے کے لیے فیس بک یا انسٹاگرام استعمال کرنا چھوڑا، اُن میں ڈپریشن، اضطراب، تنہائی اور سماجی تقابل کے احساسات میں واضح کمی آئی۔

عدالتی فائلنگ کے مطابق میٹا نے ان نتائج کو شائع کرنے یا مزید تحقیق کرنے کے بجائے منصوبہ ختم کردیا اور اندرونی طور پر کہا کہ تحقیق ’’میڈیا بیانیے‘‘ سے متاثر ہوئی ہے۔ تاہم کمپنی کے اندرونی پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ سائنس دانوں نے میٹا کے اس وقت کے عالمی پبلک پالیسی سربراہ نک کلَیگ کو یقین دلایا کہ نتائج درست اور قابلِ بھروسا ہیں۔ ایک محقق نے تحریر کیا کہ ’’نیلسن کی تحقیق واضح طور پر سماجی تقابل پر اثر دکھاتی ہے۔‘‘ ایک اور اہلکار نے تشویش ظاہر کی کہ منفی نتائج چھپانا ایسے ہی ہے جیسے تمباکو کمپنیاں سگریٹ کے نقصانات جان کر بھی حقائق عوام سے چھپائیں۔

فائلنگ میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ میٹا نے اپنی داخلی تحقیق کے باوجود امریکی کانگریس کو بتایا کہ اس کے پاس یہ جانچنے کا طریقہ ہی موجود نہیں کہ اس کے پلیٹ فارمز نوعمر لڑکیوں کے لیے نقصان دہ ہیں یا نہیں۔

میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ہفتے کے روز جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیق طریقہ کار کی خامیوں کے باعث روکی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

چھپائے گئے خطرات اور اسکول ڈسٹرکٹس کا مقدمہ

یہ الزامات اس بڑی فائلنگ کا حصہ ہیں جو موٹلی رائس نامی قانونی ادارے نے میٹا، گوگل، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف دائر مقدمے میں جمع کرائی ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز کے نقصانات، خاص طور پر بچوں اور نوعمروں کے لیے، دانستہ طور پر چھپائے۔

الزام یہ بھی ہے کہ کمپنیوں نے 13 سال سے کم عمر بچوں کو پلیٹ فارمز استعمال کرنے میں خاموشی سے سہولت دی، اسکول کے وقت میں بھی نوعمروں کی سرگرمی بڑھانے کی کوشش کی، اور بچوں کے تحفظ سے متعلق اداروں کو مالی معاونت دے کر ان سے اپنے پلیٹ فارمز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

فائلنگ کے مطابق ٹک ٹاک نے نیشنل پی ٹی اے کی اسپانسرشپ کے بعد ادارے کو ’’اپنے حق میں استعمال‘‘ کرنے پر فخر کا اظہار کیا تھا۔

میٹا کے خلاف مزید سنگین الزامات

عدالتی دستاویزات میں درج دیگر الزامات میں شامل ہے کہ:

  • میٹا نے جان بوجھ کر ایسے حفاظتی فیچرز بنائے جو مؤثر ثابت نہیں ہوتے تھے۔
  • نوعمروں کی انگیجمنٹ بڑھانے کے لیے انہیں نقصان دہ مواد دکھایا جاتا رہا۔
  • پلیٹ فارم پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کو ہٹانے کے لیے ’’17 مرتبہ پکڑے جانے‘‘ کی حد مقرر تھی۔
  • کمپنی نے سالوں تک ایسے اقدامات روک کر رکھے جو بچوں کو جنسی استحصال سے بچا سکتے تھے۔
  • اعلیٰ انتظامیہ نے حفاظت کے منصوبوں کو فنڈ دینے سے گریز کیا۔

عدالت میں جمع ایک میسج کے مطابق مارک زکربرگ نے 2021 میں کہا تھا کہ وہ “بچوں کی حفاظت” کو اپنی اولین ترجیح نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ میٹاورس کی تعمیر سمیت دیگر امور پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

میٹا کے ترجمان نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ’’چند منتخب حوالوں اور غلط فہمیوں‘‘ پر مبنی ہے اور کمپنی کی حفاظتی پالیسیاں مؤثر ہیں۔

دستاویزات اب تک عوام کے لیے جاری نہیں کی گئیں، جبکہ میٹا نے انہیں ریکارڈ سے حذف کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ کیس کی سماعت 26 جنوری کو نادرن کیلی فورنیا کی عدالت میں ہوگی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے