محلے کے لوگ انہیں “علی بھائی” کہہ کر بلاتے

اداکارہ نمرہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ تین بہنوں کے بعد پیدا ہوئیں اور گھر میں بیٹے کی خواہش کے باعث اُن کے بال بچپن میں لڑکوں کی طرح کٹوادیے گئے، جس نے اُن کی شخصیت اور بچپن پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے یہ بات ٹاک شو ہنسنا منع ہے میں گفتگو کے دوران بتائی۔
نمرہ خان نے بتایا کہ پیدائش پر ابتدائی ردعمل معمول کے مطابق تھا، مگر جب وہ نو سال کی ہوئیں تو والدہ انہیں نائی کے پاس لے گئیں اور لڑکوں کی طرح بال کٹوادئیے۔ ان کے مطابق بال کٹوانے کے دوران وہ رو پڑیں اور پھر تقریباً دو ہفتے تک گھر سے باہر نہیں نکلیں کیونکہ وہ اپنی شکل دیکھ کر بے چینی محسوس کرتی تھیں۔
اداکارہ نے کہا کہ وقت کے ساتھ انہوں نے اس نئے حلیے کو قبول کرلیا۔ محلے کے لوگ انہیں “علی بھائی” کہہ کر بلانے لگے اور انہوں نے بھی اس نام اور کردار کو اپنا لیا۔ نمرہ خان نے بتایا کہ اگر کوئی انہیں اصل نام سے پکارتا تو انہیں غصہ آجاتا کیونکہ وہ اپنے نئے کردار میں مکمل طور پر ڈھل چکی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ والدین کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے جاتیں، ان کے دانت چیک کرتیں، روزمرہ معمول، نشست و برخاست اور بات چیت کے انداز میں بھی واضح مردانہ جھلک نظر آنے لگی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سوٹ اور ٹائی پہنتی تھیں جس کی وجہ سے لڑکیاں بھی ان سے بات کرنے سے کتراتی تھیں۔
نمرہ خان نے کہا کہ یہ صورتحال 15 سے 16 سال کی عمر تک برقرار رہی۔ بعدازاں ڈاکٹروں نے والدین کو آگاہ کیا کہ یہ طرزِ عمل ان کے ذہنی و جذباتی ارتقا کے لیے مناسب نہیں، اور انہیں لڑکوں کے کردار میں ڈھالنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر ان کے والدین نے بال بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
اداکارہ نے کہا کہ بچپن کے یہ تجربات اُن کی شخصیت کا اہم حصہ ہیں، اور وہ آج بھی اس دور کو یاد کر کے سمجھتی ہیں کہ کس طرح والدین کی خواہشات کبھی کبھار بچوں کی شناخت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
UrduLead UrduLead