
اسلام آباد کی سرینگر ہائی وے پر سعودی آئل کمپنی آرامکو کے برانڈڈ فیول کی فروخت کی اجازت کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست PSO فیول اسٹیشن کے مالک محمد شفیق میر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جن کا مؤقف ہے کہ آرامکو کے پاس پاکستان میں بطور آئل مارکیٹنگ کمپنی آپریٹ کرنے کا لائسنس موجود نہیں، اس لیے اس کے پیٹرول کی فروخت قانون کے برخلاف ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پٹیشن ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اوگرا، آرامکو، عسکر آئل اور متعلقہ سرکاری اداروں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملہ آئندہ سماعت تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سرینگر ہائی وے پر آرامکو کے برانڈڈ فیول اسٹیشن کے افتتاح کے بعد علاقے میں آنے والی ٹریفک نے بڑی تعداد میں نئے اسٹیشن کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ اس نئی سرگرمی سے قریبی PSO فیول اسٹیشن، جس کے مالک شفیق میر ہیں، کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
انتظامی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ PSO اسٹیشن کو ماضی میں کئی بار ملاوٹ شدہ ایندھن فروخت کرنے اور کم تول کے الزامات پر ضلعی انتظامیہ نے سیل بھی کیا تھا۔ ہائی وے کی اہم لوکیشن کے باعث یہ اسٹیشن پہلے نمایاں فروخت حاصل کرتا رہا، تاہم آرامکو اسٹیشن کے آغاز کے بعد صورتحال بدل گئی اور گاہکوں کا رجحان اس نئی سہولت کی جانب بڑھ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لائسنس سے متعلق قانونی نکات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن درخواست گزار اور نئے اسٹیشن کے درمیان مقابلے کی نوعیت بھی معاملے کے پس منظر میں اہم کردار رکھتی ہے۔ شہریوں کے مطابق آرامکو اسٹیشن پر ایندھن کی کوالٹی اور سروس بہتر ہونے کے باعث وہاں گاڑیوں کی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے روبرو زیرِ بحث بنیادی سوال یہ ہوگا کہ آیا آرامکو پاکستان میں اوگرا کی اجازت کے بغیر برانڈڈ فیول فروخت کر سکتی ہے یا نہیں۔ تاہم اس مرحلے پر واضح فیصلہ آنے میں وقت لگ سکتا ہے، جبکہ ابتدائی کارروائی سے وکلا برادری کی مصروفیت اور عدالتی سماعتیں مزید بڑھ جائیں گی۔
UrduLead UrduLead