اتوار , نومبر 30 2025

تمباکو کمپنیوں کی خریداری میں نمایاں کمی، کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا

تمباکو خریدنے والی ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے 2026 کی فصل کی خریداری میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی کاشتکار شدید مالی بحران کا شکار ہیں، جبکہ کمپنیوں نے اضافی تمباکو سستے نرخوں پر خرید کر اربوں روپے کا منافع کمالیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تمباکو کمپنیوں نے آئندہ سیزن کے لیے اپنی مجموعی خرید 1 کروڑ 31 لاکھ 83 ہزار کلوگرام کم کردی ہے۔ یہ مسلسل چوتھا سال ہے کہ خریداری میں کمی کی جارہی ہے اور اس فیصلے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے جبکہ کم خریداری انہیں مزید نقصان میں دھکیل دے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی پاکستانی اور بین الاقوامی کمپنیاں زائد تمباکو کو گوداموں میں طویل مدت تک محفوظ کر سکتی ہیں، مگر غریب کاشتکار ایسا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ورجینیا اور وائٹ پٹا جیسی اقسام فوراً فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے انہیں مارکیٹ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

2026 کے لیے مجموعی طلب 6 کروڑ 16 لاکھ 27 ہزار کلوگرام مقرر کی گئی ہے، جس میں 5 کروڑ 81 لاکھ 84 ہزار کلو فلو کیورڈ ورجینیا، 3 لاکھ 60 ہزار کلو ڈارک ایئر کیورڈ، 13 لاکھ 42 ہزار کلو وائٹ پٹا، 13 لاکھ 81 ہزار کلو برلی اور 3 لاکھ 60 ہزار کلو سن کیورڈ شامل ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں کمپنیوں نے مجموعی طلب میں 2 کروڑ 38 لاکھ 73 ہزار کلوگرام کمی کی ہے۔

غیر ملکی کمپنیاں — خصوصاً پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) اور فلپ مورس پاکستان — سب سے بڑی خریدار ہیں۔ ان دونوں کی مشترکہ طلب 3 کروڑ 60 لاکھ کلوگرام سے زائد ہے، جبکہ باقی خرید 78 مقامی کمپنیوں، بشمول خیبر ٹوبیکو، نے پوری کرنی ہے۔

پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے مطابق 2026 کے لیے ایف سی وی، ڈارک ایئر کیورڈ اور سن کیورڈ کی طلب کم ہوئی ہے، لیکن وائٹ پٹا اور برلی کی طلب میں معمولی اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ بورڈ نے کمپنیوں اور کاشتکاروں دونوں کو مشورہ دیا ہے کہ آئندہ سال کے لیے خریداری کے باقاعدہ معاہدے کریں تاکہ سیزن کے دوران مسائل پیدا نہ ہوں۔

سابق ڈائریکٹر پی ٹی بی ایاز خان نے بتایا کہ طلب میں کمی کی ایک بڑی وجہ ویٹڈ ایوریج پرائس (ویپ) اور کم از کم مقررہ قیمت (ایم آئی پی) کا فرق ہے۔ رواں سال ویپ 719 روپے فی کلو رہی جبکہ ایم آئی پی 545 روپے مقرر کی گئی۔ کمپنیوں نے ایم آئی پی پر اضافی تمباکو خرید کر فی کلو 174 روپے کا منافع حاصل کیا اور صرف ایک سال میں 6.17 ارب روپے کمائے، تاہم اس منافع کا کوئی حصہ کاشتکاروں تک نہ پہنچ سکا۔

رواں سال اضافی تمباکو کی مقدار 3 کروڑ 53 لاکھ 50 ہزار کلوگرام تھی جو کمپنیوں نے سستے داموں خرید کر خطیر منافع حاصل کیا، جبکہ کاشتکار کم قیمتوں اور ذخیرہ نہ کرپانے کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ میں رہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ مقامی طلب کم ہونے کے باوجود برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2023-24 میں تمباکو کی برآمدات 2 کروڑ کلوگرام تھیں جو 2024-25 میں بڑھ کر 4 کروڑ 70 لاکھ کلوگرام ہو گئیں، یعنی 135 فیصد اضافہ۔ اس بڑھتی ہوئی بیرونی طلب کے باوجود کمپنیوں نے مقامی خرید کم رکھی تاکہ زائد تمباکو سستے نرخوں پر اٹھایا جاسکے۔

زرعی ماہرین اور کسان رہنماؤں کے مطابق مسلسل خریداری میں کمی، کم قیمتیں اور ذخیرہ نہ رکھنے کی مجبوری نے کاشتکاروں کے لیے معاشی صورتحال دگرگوں کر دی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے خریداری نظام کو شفاف نہ کیا تو آئندہ برسوں میں تمباکو کاشت مزید کم ہو سکتی ہے، جس سے برآمدات اور مقامی پیداوار دونوں متاثر ہوں گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے