اتوار , نومبر 30 2025

کاشتکاروں نے شوگر ملز کا 400 روپے فی من نرخ مسترد کردیا

کاشتکاروں نے ملک کی مختلف شوگر ملز کی جانب سے گنے کا 400 روپے فی من نرخ پیش کیے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیرمنصفانہ اور پیداواری لاگت سے کم قرار دیا ہے۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ موجودہ اخراجات اور زرعی مہنگائی کے دور میں اس ریٹ پر گنے کی فروخت ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنا ہوگی۔

کاشتکار اتحاد کے رہنماؤں نے کہا کہ کھاد، ڈیزل، زرعی ادویات اور مشینری کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے کسانوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں بھی کسانوں کو تاخیر، کٹوتی اور کم قیمتوں کا سامنا رہا، جس کے باعث اس سال ملز کا 400 روپے فی من ریٹ کسی صورت قبول نہیں۔

کسان نمائندوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومتوں نے گنے کی امدادی قیمت بڑھانے کا وعدہ کیا تھا مگر شوگر ملز لابی اب بھی کم نرخ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کم قیمت کے باعث کاشتکار کو نہ صرف نقصان ہوتا ہے بلکہ آئندہ سیزن میں گنے کی کاشت متاثر ہونے سے چینی کی پیداوار بھی کم ہوسکتی ہے۔

کاشتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے گنے کا مناسب نرخ مقرر نہ کیا تو احتجاجی حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ دوسری جانب شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت، ایکسپورٹ مسائل اور مارکیٹ دباؤ کے سبب موجودہ قیمت ہی ممکن ہے، تاہم کسان تنظیمیں اسے حقائق کے منافی قرار دیتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گنے کی قیمت پر تنازعہ ہر سیزن میں شدت اختیار کرتا ہے اور زرعی پالیسیوں میں مستقل مزاجی نہ ہونے کے باعث یہ مسئلہ بار بار جنم لیتا ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت شفاف پالیسی اور ریٹ میکنزم وضع کردے تو کسان اور ملز دونوں کو استحکام مل سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے