جمعرات , مارچ 26 2026

تیل کی قیمتیں 5 فیصد سے زائد گر گئیں

ایشیائی تجارت میں خام تیل کی قیمتیں ممکنہ سیزفائر امیدوں اور امریکی ذخائر میں اضافے پر تیزی سے نیچے آئیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدھ کو ابتدائی ایشیائی تجارت کے دوران تیزی سے گر گئیں اور برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گیا، جبکہ WTI میں بھی 5 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی میں کمی اور امریکہ میں خام تیل کے ذخائر بڑھنے کی خبروں نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔

برینٹ کروڈ 6.08 فیصد گر کر 98.03 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 5.24 فیصد کمی کے بعد 87.51 ڈالر پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔ یہ گراوٹ گزشتہ دو دن کی شدید اتار چڑھاؤ کے بعد سامنے آئی جب جیوپولیٹیکل خبروں نے قیمتوں میں تیزی اور پھر اچانک کمی پیدا کی۔

قیمتوں میں پہلے اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تنصیبات پر ممکنہ حملے کی دھمکی دی، جس سے خلیجی خطے میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ خلیج کے راستے گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی فوجی کشیدگی سے قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

بعد ازاں مارکیٹ کا رخ اس وقت بدل گیا جب رپورٹس سامنے آئیں کہ واشنگٹن نے تہران کو ممکنہ امن فریم ورک بھیجا ہے جس کے تحت ایک ماہ کے عارضی سیز فائر پر بات ہو رہی ہے۔ تاجروں نے اسے سپلائی کے فوری خطرات میں کمی کے طور پر لیا، جس سے فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ غیر دشمن جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہ کر آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا قریب 20 فیصد بنتا ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران سنجیدگی سے بات کر رہا ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس میں 15 نکاتی تجویز کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک ماہ کے سیز فائر کی بنیاد بن سکتی ہے، تاہم ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے۔

قیمتوں پر اضافی دباؤ اس وقت آیا جب امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں 20 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل اور پٹرول کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے کا انکشاف ہوا۔ توانائی کی منڈی کے تجزیہ کاروں کے مطابق زیادہ ذخائر عام طور پر کمزور طلب یا مناسب سپلائی کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے فیوچر قیمتوں پر نیچے کی طرف دباؤ بڑھتا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی کمرشل خام تیل کے ذخائر کئی ہفتوں سے پانچ سالہ اوسط سے اوپر ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں تیزی برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔

اس کے باوجود جیوپولیٹیکل خطرات ختم نہیں ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں 82ویں ایئربورن ڈویژن کے عناصر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں اضافے اور جنوبی لبنان میں ممکنہ زمینی آپریشن کا عندیہ دیا ہے۔

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی تیل پیداوار کا تقریباً 30 فیصد مشرق وسطیٰ سے آتا ہے، جبکہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اضافی پیداواری صلاحیت محدود ممالک کے پاس ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ سے قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

بدھ کو کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فیول اسٹوریج ٹینک پر ڈرون حملے کی خبر نے بھی ظاہر کیا کہ خطے میں کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برینٹ کا 100 ڈالر سے نیچے آنا زیادہ تر ممکنہ ڈیل کی امید پر مبنی ہے، نہ کہ زمینی صورتحال میں واضح بہتری پر۔

ماہرین کے مطابق تیل کی منڈی آئندہ دنوں میں بھی سیاسی خبروں، امریکی ذخائر کے اعداد و شمار اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر حساس رہے گی، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو برینٹ اور WTI دوبارہ تیزی سے اوپر جا سکتے ہیں، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم استحکام برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران امریکا ملاقات پاکستان میں جمعہ کو متوقع

پاکستان میں ممکنہ ایران۔امریکا مذاکرات 15 نکاتی امریکی تجاویز کے بعد متوقع، پابندیوں میں نرمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے