بدھ , مارچ 25 2026

اسلام آباد میں US-Iran مذاکرات کی قیاس آرائیاں

اسرائیلی میڈیا کے دعوے، اسلام آباد میں ممکنہ ملاقات پر تاحال تصدیق نہیں

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، تاہم امریکی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق نہیں کی جبکہ ایران نے براہ راست رابطوں کی خبروں کی تردید کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بات چیت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے آمنے سامنے بیٹھ سکتے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ممکنہ ملاقات میں ایران کی جانب سے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ حکام شریک ہو سکتے ہیں جبکہ امریکی وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کسی ممکنہ ملاقات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور اس حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی اطلاعات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد سفارتی رابطوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان بات چیت میں “اہم نکات پر اتفاق” ہوا ہے اور جلد پیش رفت ممکن ہے، تاہم ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کے دعووں کو مسترد کر دیا۔

امریکی میڈیا اور سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں عمان، ترکی، مصر اور دیگر علاقائی ممالک کے ذریعے پسِ پردہ رابطے جاری رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ فروری 2026 میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کی تھی، جس میں جوہری پروگرام اور سیکیورٹی معاملات زیر بحث آئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی حالیہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور انہوں نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کو عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا تھا۔

عالمی مبصرین کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رسانی میں کردار ادا کرتا رہا ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب براہ راست مذاکرات ممکن نہ ہوں۔ خطے میں جاری تنازع، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور توانائی کی عالمی منڈی پر پڑنے والے اثرات نے بڑی طاقتوں کو سفارتی حل تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد میں کسی سطح کی ملاقات ہوتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے بعد سب سے اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس وقت تک کوئی بھی دعویٰ حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک امریکا، ایران یا پاکستان کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہ آئے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق آئندہ چند دن خطے کی صورتحال کے لئے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ امریکا ایران کشیدگی میں کمی نہ آنے کی صورت میں مزید فوجی اقدامات کا امکان بھی خارج از امکان نہیں جبکہ کامیاب مذاکرات کی صورت میں خطے میں استحکام کی نئی کوشش شروع ہو سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

12,861 ری ٹیلرز کو پی او ایس سے منسلک

آئی ایم ایف شرائط پر ڈیجیٹل نظام تیز، 40 ہزار ری ٹیلرز رجسٹریشن ہدف فیڈرل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے