لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی سرگرمیوں سے ٹورنامنٹ سے پہلے شائقین میں جوش بڑھ گیا

دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز نے نئے سیزن سے قبل اپنی ہوم اور اوے کٹس متعارف کرا دی ہیں جبکہ پشاور زلمی کی پروموشنل سرگرمیوں نے بھی پاکستان سپر لیگ کے آغاز سے پہلے شائقین میں جوش و خروش بڑھا دیا ہے۔ آٹھ ٹیموں پر مشتمل توسیعی ٹورنامنٹ 26 مارچ کو لاہور میں شروع ہوگا۔
لاہور قلندرز کی جانب سے پیش کی گئی نئی کٹس سبز رنگ کے مختلف شیڈز پر مشتمل ہیں جن پر روایتی نعرہ “دما دم مست قلندر” درج ہے جبکہ ماحولیاتی آگاہی کے لیے “Smog کو کرو آل آؤٹ” کا پیغام بھی شامل کیا گیا ہے۔ ٹیم انتظامیہ کے مطابق اس مہم کا مقصد فضائی آلودگی کے مسئلے پر توجہ دلانا ہے، جو خاص طور پر لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں حالیہ برسوں میں سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق 2025 کے دوران لاہور کئی بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا تھا، جس کے بعد مختلف کھیلوں کی ٹیموں اور اداروں نے آگاہی مہمات شروع کیں۔
نئی کٹس کی رونمائی کے بعد سوشل میڈیا پر شائقین کی بڑی تعداد نے دلچسپی ظاہر کی اور ٹیم سے سوال کیا کہ یہ جرسی کہاں سے خریدی جا سکتی ہے۔ پی ایس ایل فرنچائزز گزشتہ چند سیزنز سے اپنی برانڈڈ مرچنڈائز کی فروخت کے ذریعے اضافی آمدن حاصل کر رہی ہیں، جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق لیگ کی کمرشل ویلیو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پی سی بی کی 2024 کی مالی رپورٹ کے مطابق پاکستان سپر لیگ کی برانڈ ویلیو 350 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو اسے دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹی ٹوئنٹی لیگز میں شامل کرتی ہے۔
دوسری جانب پشاور زلمی نے بھی نئے سیزن سے قبل اپنی ٹیم کی اسٹائلش آمد کی ویڈیوز جاری کیں جن میں کپتان بابر اعظم نمایاں انداز میں میدان میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔ ویڈیوز میں آل راؤنڈر عامر جمال اور فاسٹ بولر شاہنواز دہانی بھی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ فرنچائز کی میڈیا مہم کو سوشل میڈیا پر وسیع پذیرائی ملی، جبکہ ماہرین کے مطابق پی ایس ایل ٹیمیں اب کھیل کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل برانڈنگ پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔
لاہور قلندرز نے اس موقع پر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر مصطفیٰ زر الرحمٰن، جو کرکٹ حلقوں میں “دی فِز” کے نام سے معروف ہیں، اور نوجوان آل راؤنڈر پرویز حسین ایمون کا بھی پرتپاک استقبال کیا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت کو پی ایس ایل کی مقبولیت کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سیزن میں لیگ کے میچز 150 سے زائد ممالک میں نشر ہوئے تھے جبکہ ڈیجیٹل ویورشپ میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس سال پاکستان سپر لیگ کو آٹھ ٹیموں تک توسیع دی گئی ہے، جو لیگ کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے۔ افتتاحی میچ 26 مارچ کو لاہور میں کھیلا جائے گا جس میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کا مقابلہ نئی شامل ہونے والی ٹیم حیدرآباد کنگزمین سے ہوگا، جبکہ فائنل 3 مئی کو شیڈول ہے۔ پی سی بی حکام کے مطابق لیگ کی توسیع کا مقصد زیادہ شہروں کو نمائندگی دینا اور مقامی کرکٹ کو فروغ دینا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کا نیا سیزن ایسے وقت شروع ہو رہا ہے جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور بورڈ لیگ کو خطے کی سب سے مضبوط ٹی ٹوئنٹی مقابلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں لاہور قلندرز سمیت تمام فرنچائزز کی برانڈنگ اور شائقین کی دلچسپی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
UrduLead UrduLead