بدھ , مارچ 25 2026

12,861 ری ٹیلرز کو پی او ایس سے منسلک

آئی ایم ایف شرائط پر ڈیجیٹل نظام تیز، 40 ہزار ری ٹیلرز رجسٹریشن ہدف

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نظام کو دستاویزی بنانے کی مہم کے تحت 12 ہزار 861 بڑے ری ٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے منسلک کر دیا ہے، جبکہ آئندہ دو سال میں 40 ہزار ٹیئر ون ری ٹیلرز کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق بڑے شاپنگ سینٹرز، ٹیکسٹائل، چمڑے کے کاروبار اور ریسٹورنٹس سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ ری ٹیلرز کو کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ سیلز ٹیکس کی وصولی کو ریئل ٹائم بنیادوں پر مانیٹر کیا جا سکے۔ یہ اقدام بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق اب تک رجسٹرڈ 12 ہزار 861 بڑے کاروباروں کی مجموعی برانچوں کی تعداد 35 ہزار 761 ہے، جبکہ صرف ٹیئر ون ری ٹیلرز کی تعداد 11 ہزار 301 اور ان کی برانچیں 23 ہزار 676 ہیں۔ ریسٹورنٹ سیکٹر میں ایک ہزار بڑے ریٹیلرز اور ان کی ایک ہزار 490 برانچز کو بھی پی او ایس سسٹم سے منسلک کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر سے وابستہ 560 بڑے ری ٹیلرز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور رکھنے والے تمام ری ٹیلرز کو رواں مالی سال کے اختتام تک ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت سیلز کا مکمل ریکارڈ براہ راست ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا بیس میں منتقل ہوگا جس سے ٹیکس چوری کے امکانات کم ہوں گے۔ خلاف ورزی کی صورت میں پانچ لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک جرمانہ یا کاروبار کی بندش کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں ریٹیل سیکٹر کو طویل عرصے سے ٹیکس نیٹ میں لانا مشکل رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے اندازوں کے مطابق ملک کی معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے اور ریٹیل و ہول سیل سیکٹر مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً 18 سے 20 فیصد حصہ رکھتا ہے، مگر ٹیکس وصولی میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔ اسی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو سیلز ٹیکس نظام کو خودکار بنانے اور بڑے کاروباروں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ بڑھانے کی شرط دی گئی تھی۔

حالیہ برسوں میں ایف بی آر نے پی او ایس انٹیگریشن، ای۔انوائسنگ اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم جیسے اقدامات شروع کیے ہیں۔ ایف بی آر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پی او ایس سسٹم سے منسلک ری ٹیلرز سے سیلز ٹیکس وصولی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ریئل ٹائم ڈیٹا کے باعث جعلی رسیدوں اور کم سیلز ظاہر کرنے کے واقعات میں کمی آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریٹیل سیکٹر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ٹیکس محصولات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح اب بھی تقریباً 10 فیصد کے قریب ہے، جو خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے۔ حکومت نے آئندہ مالی سالوں میں اس شرح کو بڑھانے کے لیے دستاویزی معیشت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور خودکار ٹیکس نظام پر زور دیا ہے۔

حکام کے مطابق پی او ایس سسٹم کی توسیع جاری رہے گی اور آئندہ مرحلے میں مزید بڑے ری ٹیلرز کو شامل کیا جائے گا، کیونکہ ایف بی آر کو توقع ہے کہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے ذریعے محصولات میں اضافہ ہوگا اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کردہ ریونیو اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL-11: لاہور قلندرز کی نئی کٹس

لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی سرگرمیوں سے ٹورنامنٹ سے پہلے شائقین میں جوش بڑھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے