پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹل نگرانی تیز کرنے کی شرط، 7 ارب ڈالر پروگرام پر سخت مانیٹرنگ متوقع

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان ورچوئل اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں جس میں اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت نگرانی سخت ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام وزارت خزانہ کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت جاری ہے اور اتفاق رائے کی صورت میں جلد اسٹاف لیول معاہدہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔ فنڈ نے رسک بیسڈ آڈٹ لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ زیادہ آمدن رکھنے والے مگر کم ٹیکس دینے والے افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ آئی ایم ایف حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف وعدے کافی نہیں بلکہ عملی نتائج دکھانا ہوں گے۔
ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ رواں مالی سال میں ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے اور ریونیو کلیکشن بڑھانے کے لیے اضافی شرائط عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ فنڈ کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر مالی استحکام ممکن نہیں۔
حکام کے مطابق ایف بی آر نے فیکٹریوں اور دکانوں کی پیداوار اور فروخت کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کاروباری لین دین کو آن لائن رپورٹ کرنا لازمی بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف ایک تہائی کاروبار مکمل ڈیٹا فراہم کر رہے ہیں جس کے باعث ٹیکس وصولی متاثر ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے سیلز اور پیداوار کا ریکارڈ براہ راست حکام تک پہنچایا جائے گا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس آڈٹس سے مخصوص آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے تاہم ٹیکس دہندگان کے عدالتوں سے رجوع کرنے کے باعث وصولیوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لیے آڈٹ اور اپیل کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔
پاکستان نے گزشتہ سال آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنا، بجٹ خسارہ کم کرنا اور ٹیکس نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ جائزہ مذاکرات پروگرام کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے اہم ہیں کیونکہ فنڈ اصلاحات کی رفتار سے مطمئن نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو پاکستان کو اگلی قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے سخت شرائط برقرار رہنے کا امکان ہے اور ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ریونیو بڑھانے کے اقدامات آئندہ مہینوں میں معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ رہیں گے۔
UrduLead UrduLead