اتوار , مئی 3 2026

سی ایس ایس میں اقلیتی نوجوانوں کی کامیابی

پاکستان کے اعلیٰ ترین مقابلے کے امتحان سی ایس ایس میں اس سال کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان، جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا بھی شامل ہیں، جنہوں نے سخت حالات کے باوجود اپنی محنت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔

بی بی سی کے مطابق رواں سال ملک بھر سے 12 ہزار 792 امیدواروں نے سی ایس ایس امتحان میں شرکت کی، جن میں سے صرف دو فیصد کامیاب قرار پائے، جبکہ دستیاب نشستوں کے تحت محض 170 امیدواروں کو مختلف سروسز کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان کامیاب امیدواروں میں جیون ریباری اور کھیم چند کی شمولیت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

کھیم چند جنڈوڑا کا تعلق سندھ کی جنڈوڑا کمیونٹی سے ہے، جس کا نام روایتی پتھر کی چکی سے منسوب ہے۔ اس برادری کے افراد نسلوں سے ہاتھ سے اناج پیسنے کا کام کرتے رہے، تاہم وقت کے ساتھ وہ مزدوری کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ کھیم چند کے مطابق ان کی برادری میں تعلیم کو ایک طرح کی بغاوت سمجھا جاتا تھا، لیکن ان کے والد نے اس روایت کو توڑتے ہوئے پرائمری سکول ٹیچر بن کر نئی راہ دکھائی۔

کھیم چند نے اپنی ابتدائی تعلیم سرکاری اداروں سے حاصل کی، بعد ازاں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے گریجویشن کیا اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز مکمل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کی والدہ نے زیورات فروخت کیے جبکہ والد نے قرضے لیے، جس کے باعث ان کی کامیابی ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب جیون ریباری کا تعلق ضلع بدین کے ایک پسماندہ علاقے سے ہے۔ ان کا تعلق ریباری برادری سے ہے، جو روایتی طور پر مال مویشی پالنے اور نقل مکانی کرنے والی زندگی گزارتی رہی ہے۔ جیون نے بھی اپنی ابتدائی تعلیم سرکاری اداروں سے حاصل کی اور سندھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری مکمل کی۔

سی ایس ایس کی تیاری کے دوران مالی مشکلات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ لاہور میں قیام کے دوران جب وسائل ختم ہو گئے تو انہوں نے ایک گردوارے میں پناہ لی، جہاں سکھ برادری نے انہیں رہائش اور کھانے کی سہولت فراہم کی۔ وہ ٹیوشن پڑھا کر اپنے اخراجات پورے کرتے رہے۔

جیون ریباری کی کامیابی اس لیے بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے اقلیتی کوٹے کے بجائے جنرل میرٹ پر کامیابی حاصل کی اور پولیس سروس آف پاکستان میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پی) منتخب ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن و امان کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

کھیم چند نے بھی پولیس سروس کو بطور کیریئر منتخب کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی برادری میں ایک نئی پہچان قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس شعبے میں خدمات انجام دے کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل دیگر سرکاری امتحانات بھی پاس کیے تھے، تاہم ان کا اصل ہدف سی ایس ایس کے ذریعے اعلیٰ عہدہ حاصل کرنا تھا۔

دونوں نوجوانوں کی کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کے افراد بھی محدود وسائل کے باوجود اعلیٰ سرکاری عہدوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اقلیتوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع اب بھی محدود ہیں، جس کے باعث کئی سرکاری نشستیں خالی رہ جاتی ہیں۔

2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان میں ہندو برادری سب سے بڑی اقلیت ہے، جس کی تعداد تقریباً 38 لاکھ ہے، جبکہ مسیحی برادری کی تعداد 33 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے باوجود اعلیٰ سرکاری خدمات میں ان کی نمائندگی اب بھی کم ہے۔

جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا کی کامیابی کو نہ صرف ذاتی کامیابی بلکہ ایک سماجی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو دیگر نوجوانوں کے لیے بھی امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اورنگزیب کا REIT اصلاحات پر زور

کیپٹل مارکیٹ مضبوط بنانے کی ہدایت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے