ہفتہ , مئی 2 2026

امریکا کا پاکستانی ایف-16کیلئے ریڈار سسٹمز معاہدہ

امریکا نے ایف-16 لڑاکا طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی طویل المدتی معاونت کیلئے 48 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس میں پاکستان سمیت متعدد اتحادی ممالک شامل ہیں۔

امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ Northrop Grumman Systems Corporation کے ساتھ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایف-16 طیاروں میں استعمال ہونے والے APG-66 اور APG-68 ریڈار سسٹمز کی انجینئرنگ اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔ یہ کام امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر لن تھیکم ہائٹس میں انجام دیا جائے گا اور معاہدہ 31 مارچ 2036 تک جاری رہے گا۔

یہ معاہدہ امریکی فارن ملٹری سیلز (FMS) پروگرام کے تحت مختلف ممالک کو سپورٹ فراہم کرنے کیلئے کیا گیا ہے، جن میں بحرین، مصر، ترکی، اردن، جنوبی کوریا اور پاکستان سمیت کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ معاہدہ سنگل سورس بنیاد پر امریکی فضائیہ کے لائف سائیکل مینجمنٹ سینٹر، یوٹاہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ابتدائی طور پر مالی سال 2026 کے تحت 2.64 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ مجموعی معاہدہ طویل مدت میں مختلف مراحل پر عملدرآمد کے تحت مکمل کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کے ایف-16 بیڑے کو آپریشنل رکھنے کے عزم کا حصہ ہے۔ پاکستان بھی کئی دہائیوں سے ایف-16 طیارے استعمال کر رہا ہے اور ان کی اپ گریڈیشن اور مینٹیننس کیلئے وقتاً فوقتاً امریکی تعاون حاصل کرتا رہا ہے۔

دسمبر 2025 میں Defense Security Cooperation Agency نے امریکی کانگریس کو پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کیلئے 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مجوزہ پیکج سے آگاہ کیا تھا۔ اس پیکج میں لنک-16 ڈیٹا سسٹمز، کرپٹوگرافک آلات، جدید ایویانکس، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد پاکستان، امریکا اور دیگر اتحادی افواج کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانا اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔

اپ گریڈیشن منصوبے میں طیاروں کے آپریشنل پروگرامز، شناختی نظام، نیویگیشن آلات اور محفوظ مواصلاتی نظام میں بہتری شامل ہے، جبکہ اس میں سیمولیٹرز، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور انجینئرنگ سپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے میں Lockheed Martin کو مرکزی ٹھیکیدار نامزد کیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس پروگرام سے امریکی دفاعی تیاریوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اضافی امریکی عملہ پاکستان بھیجا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایف-16 پروگرام میں امریکی تعاون کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے طیاروں کی عمر بڑھانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے اہم قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے فضائی بیڑے میں تنوع پیدا کیا ہے، تاہم ایف-16 کی تکنیکی صلاحیت برقرار رکھنا اب بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ معاہدہ اور مجوزہ اپ گریڈیشن پروگرام اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکا پاکستان کے ایف-16 بیڑے کی دیکھ بھال اور جدیدکاری میں بدستور اہم کردار ادا کر رہا ہے، جو خطے میں دفاعی تعاون اور آپریشنل ہم آہنگی کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

راولپنڈی میں دودھ اور دہی کی قیمتوں میں اضافہ

شہر میں فریش ملک ایسوسی ایشن نے دودھ اور دہی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے