
گرمیوں کے موسم میں آم کا اچار پاکستانی دسترخوان کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کھانوں کے ساتھ اس کی کھٹی، تیز اور مصالحے دار لذت نہ صرف ذائقہ بڑھاتی ہے بلکہ بعض غذائی فوائد بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ اس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق آم کا اچار کچے آم، سرسوں کے تیل، نمک اور مختلف مصالحوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ کچے آم وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے اور ہاضمے کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اچار میں شامل بعض مصالحے، جیسے میتھی، سونف اور کلونجی، معدے کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ محدود مقدار میں آم کا اچار کھانے سے بھوک میں اضافہ اور کھانے کے ذائقے میں بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آم کے اچار میں نمک اور تیل کی مقدار عموماً زیادہ ہوتی ہے، جو بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور گردوں کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ زیادہ نمک کا استعمال جسم میں پانی جمع ہونے اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اچار کا ضرورت سے زیادہ استعمال معدے میں تیزابیت، جلن اور ہاضمے کی خرابی کا باعث بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو پہلے سے معدے کے امراض میں مبتلا ہوں۔
غذائی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ آم کا اچار متوازن غذا کا حصہ بناتے ہوئے محدود مقدار میں استعمال کیا جائے۔ گھر میں تیار کردہ اچار نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں نمک، تیل اور مصالحوں کی مقدار کو ضرورت کے مطابق کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آم کا اچار ذائقے اور روایتی کھانوں کی رونق بڑھاتا ہے، لیکن صحت مند طرزِ زندگی کے لیے اس کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے تاکہ اس کے فوائد حاصل کیے جا سکیں اور ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔
UrduLead UrduLead