
پاکستان میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، ایسے میں لوگ شدید گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنر (اے سی) کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین صحت کے مطابق ٹھنڈے ماحول سے اچانک شدید گرم ماحول میں آنا انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اے سی والے کمرے سے اچانک باہر نکلنے سے جسم کو درجہ حرارت کے توازن میں دشواری پیش آتی ہے، جس سے ہیٹ شاک یا چکر آنے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر بزرگ افراد، بچے اور دل یا بلڈ پریشر کے مریض اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹھنڈے ماحول میں رہنے سے جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، اور جب انسان یکدم تیز دھوپ یا گرم ہوا میں آتا ہے تو جسم فوری طور پر خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں سر درد، تھکن، سانس لینے میں دشواری اور بعض اوقات بیہوشی بھی ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ بار بار اے سی اور باہر کی گرمی کے درمیان آنے جانے سے نزلہ، زکام اور گلے کی سوزش جیسی شکایات بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جلد پر پسینہ آنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، جو جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کراچی، لاہور اور ملتان جیسے شہروں میں جہاں نمی اور گرمی دونوں زیادہ ہوتی ہیں، وہاں یہ اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید بڑھ رہا ہے، جس سے ایسے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ اے سی والے کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے چند منٹ کے لیے درجہ حرارت کو بتدریج کم کیا جائے یا کسی نیم ٹھنڈے ماحول میں وقت گزارا جائے تاکہ جسم آہستہ آہستہ خود کو ایڈجسٹ کر سکے۔ اس کے علاوہ پانی کا زیادہ استعمال اور دھوپ میں نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق مناسب احتیاط نہ کرنے کی صورت میں ہیٹ اسٹروک جیسے خطرناک مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ شدید گرمی میں اپنے معمولات کو محتاط انداز میں ترتیب دیں اور اچانک درجہ حرارت کی تبدیلی سے بچنے کی کوشش کریں۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead