بی بی سی اردو کے مطابق ماہرین کہتے ہیں پاکستان ضامن نہیں بلکہ رابطہ کار بن سکتا ہے

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں ضامن کا کردار ادا نہیں کرے گا بلکہ بطور ثالث فریقین کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے تک محدود رہ سکتا ہے، بی بی سی اردو سے گفتگو کرنے والے سفارتی ماہرین اور سابق حکام نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کی ترجیح کشیدگی کم کرانا ہے کیونکہ خطے میں جنگ کے اثرات براہ راست پاکستان کی معیشت اور سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو مکمل اعتماد سے نہیں دیکھ رہا کیونکہ گزشتہ برس جون اور دسمبر میں قطر اور عمان کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت حملوں کے بعد معطل ہو گئی تھی، جس کے باعث تہران اب کسی بھی نئے فریم ورک میں مضبوط ضمانتیں چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان کسی ممکنہ معاہدے کا ضامن بن سکتا ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر محمد شعیب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کسی معاہدے کی ضمانت نہیں دے گا بلکہ وہ ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی کوشش ہو گی کہ مذاکرات جاری رہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم نہ ہو۔
سابق سفیر آصف درانی نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ابتدائی مذاکراتی مرحلے میں ثالث ملک کا مینڈیٹ محدود رکھا جاتا ہے اور پاکستان بھی اسی اصول کے تحت صرف سہولت کار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اپنی سرزمین پر بات چیت کا موقع فراہم کر کے تنازع کے حل کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے، لیکن ضامن بننا اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس کوشش کے پیچھے سفارتی فائدے کے ساتھ ساتھ معاشی ضرورت بھی ہے۔ ایران میں کشیدگی بڑھنے سے خطے میں توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے عالمی تیل کی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کیا۔ عالمی توانائی اداروں کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے اور کسی بھی رکاوٹ کا براہ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔
پروفیسر محمد شعیب کے مطابق کشیدگی میں کمی کی صورت میں پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی سطح پر فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام سے درآمدی بل کم ہو گا اور تجارت پر دباؤ بھی کم پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی معیشتیں بھی تنازع سے متاثر ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کو سب سے زیادہ ترسیلات زر انہی ممالک سے ملتی ہیں، اس لیے خطے میں استحکام اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات بھی اس سفارتی سرگرمی کی ایک وجہ سمجھے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان اپنی توجہ افغانستان کی صورتحال اور شمال مغربی علاقوں میں سکیورٹی چیلنجز پر مرکوز کر سکے گا، جو حالیہ برسوں میں دوبارہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق سابق امریکی سفارت کار اور سٹمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا امور کی ڈائریکٹر الزبتھ تھریلکیڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکہ، ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات موجود ہیں، اسی وجہ سے ماضی میں بھی اسلام آباد پس پردہ رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے تو یہ اس کی بڑی سفارتی کامیابی ہو گی اور اس سے واشنگٹن، ریاض اور تہران کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کروانا خود پاکستان کے لیے بھی ایک خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ اگر بات چیت ناکام ہو جائے یا تنازع مزید بڑھ جائے تو اس کے سیاسی اور سلامتی کے اثرات براہ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کی کوشش یہی ہو گی کہ وہ ثالثی کا کردار برقرار رکھے، کشیدگی کم کرائے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے میں توانائی کی ترسیل معمول پر رکھنے میں مدد دے، کیونکہ ایران امریکہ تنازع میں کمی پاکستان کی معیشت، خارجہ پالیسی اور سکیورٹی صورتحال پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead