بدھ , مارچ 25 2026

شہباز شریف کی امریکا ایران مذاکرات کی پیشکش

پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کر دی

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے، یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں میں پانچ روزہ وقفے کے اعلان کے بعد پس پردہ رابطوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ایران نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ رابطوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔

امریکی صدر کی جانب سے حالیہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ پس پردہ رابطوں کے بعد حملوں میں عارضی وقفہ کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی حل کا راستہ نکالا جا سکے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی براہ راست مذاکرات کی بات درست نہیں اور ایسی خبریں گمراہ کن ہیں۔

حالیہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبر نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے پورا خطہ شدید تناؤ کا شکار ہو گیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خلیج کے راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان ماضی میں بھی علاقائی اور عالمی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد خطے میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے پاکستان کی معیشت، توانائی درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کا مقصد دونوں ممالک کو بات چیت کی میز پر لانا ہے تاکہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی سفارتی پیش رفت سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام آ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران میں اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی بریک تھرو کے لیے عالمی طاقتوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہوں گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL-11: لاہور قلندرز کی نئی کٹس

لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی سرگرمیوں سے ٹورنامنٹ سے پہلے شائقین میں جوش بڑھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے