پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی پیشکش کر دی

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے، یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں میں پانچ روزہ وقفے کے اعلان کے بعد پس پردہ رابطوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم ایران نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ رابطوں میں خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے اور کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
Pakistan welcomes and fully supports ongoing efforts to pursue dialogue to end the WAR in Middle East, in the interest of peace and stability in region and beyond. Subject to concurrence by the US and Iran, Pakistan stands ready and honoured to be the host to facilitate…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 24, 2026
امریکی صدر کی جانب سے حالیہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ پس پردہ رابطوں کے بعد حملوں میں عارضی وقفہ کیا جا رہا ہے تاکہ سفارتی حل کا راستہ نکالا جا سکے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی براہ راست مذاکرات کی بات درست نہیں اور ایسی خبریں گمراہ کن ہیں۔
حالیہ بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبر نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوا جس سے پورا خطہ شدید تناؤ کا شکار ہو گیا۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خلیج کے راستوں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی علاقائی اور عالمی تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد خطے میں استحکام کا خواہاں ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے پاکستان کی معیشت، توانائی درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کا مقصد دونوں ممالک کو بات چیت کی میز پر لانا ہے تاکہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی سفارتی پیش رفت سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران میں اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی بریک تھرو کے لیے عالمی طاقتوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہوں گی۔
UrduLead UrduLead