بدھ , مارچ 25 2026

پیٹرولیم سبسڈی: وزیراعظم کی زرداری سے آج ملاقات

حکومت صوبوں کو شامل کرنے اور ڈیجیٹل راشننگ نظام لانے پر غور

وزیراعظم شہباز شریف آج صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کریں گے جہاں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں صوبوں کو شامل کرنے پر مشاورت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایوان صدر میں متوقع ہے جس میں حکومت کے مجوزہ ڈیجیٹل راشننگ نظام پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اب تک پیٹرولیم مصنوعات پر تقریباً 100 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے۔ اس سبسڈی سے ملک بھر کے صارفین مستفید ہو رہے ہیں تاہم اس کا مالی بوجھ وفاقی خزانے پر بڑھ رہا ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم صوبائی حکومتوں کو بھی اس بوجھ میں شریک کرنے کے خواہاں ہیں۔

پاکستان میں توانائی سبسڈیز ماضی میں بھی بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈالتی رہی ہیں۔ وزارت خزانہ کے مالی سال 2025 کے بجٹ دستاویزات کے مطابق توانائی شعبے کی سبسڈیز مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ ہیں۔ حکومت اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی خسارہ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے لیے سبسڈیز کو محدود کرنا اہم شرط ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف صدر کو اس بات پر اعتماد میں لیں گے کہ صوبے بھی سبسڈی کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت زیادہ مالی وسائل ملتے ہیں جس کے باعث وفاق کے لیے اخراجاتی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ چونکہ سبسڈی کا فائدہ پورے ملک کو ہوتا ہے اس لیے اس کی ذمہ داری بھی مشترکہ ہونی چاہیے۔

دوسری جانب حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی رجسٹریشن مکمل کریں گے۔ ہر شہری کو اپنی گاڑی کا نمبر اور شناختی کارڈ درج کرنا ہوگا تاکہ اس کا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کے تحت ہر صارف کے لیے پیٹرول یا ڈیزل کا یومیہ کوٹہ مقرر کیا جائے گا۔ یہ کوٹہ صارف کی ضرورت اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائے گا۔ رجسٹرڈ صارفین کو صرف مقررہ حد کے مطابق ایندھن فراہم کیا جائے گا جس سے غیر ضروری استعمال کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کھپت میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کی بڑھتی ضروریات کے باعث طلب میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی رجحان درآمدی بل میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ مارچ سے موجودہ مارچ تک پیٹرولیم استعمال کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اس جائزے سے ظاہر ہوا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود استعمال بڑھ رہا ہے جس نے پالیسی سازوں کو نئے اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ ڈیجیٹل راشننگ نظام اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی محدود پیمانے پر راشننگ کے اقدامات کیے گئے تاہم ڈیجیٹل نظام ایک نئی پیش رفت ہوگی۔ اس کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، صوبائی حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان قریبی تعاون درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ ڈیٹا سیکیورٹی اور شفافیت بھی اہم چیلنجز ہوں گے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ مانیٹری پالیسی میں مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق غیر ہدفی سبسڈیز کو کم کرنا معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ اسی تناظر میں حکومت پیٹرولیم سبسڈی کو زیادہ مؤثر اور محدود بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر سے مشاورت کے بعد صوبوں کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کا آغاز کیا جائے گا۔ اس عمل کے نتیجے میں پیٹرولیم سبسڈی کے نئے فریم ورک اور ڈیجیٹل راشننگ نظام کے خدوخال سامنے آئیں گے۔ آئندہ مہینوں میں یہ اقدامات مہنگائی کنٹرول کرنے اور مالی خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL-11: لاہور قلندرز کی نئی کٹس

لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کی سرگرمیوں سے ٹورنامنٹ سے پہلے شائقین میں جوش بڑھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے