ایران اسرائیل کشیدگی کے خلاف امریکا سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

ایران اسرائیل کشیدگی کے خلاف دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جہاں لاکھوں افراد نے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آئے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے اور سفارتی حل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
یونان، اٹلی، فرانس، اسپین، جرمنی، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا میں ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر جنگ کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے بھی بھرپور شرکت کی۔
یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران مشرق وسطیٰ تنازعات کے خلاف عوامی ردعمل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2023 اور 2024 میں غزہ تنازع کے دوران بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے جن میں لاکھوں افراد شریک ہوئے، جیسا کہ یورپی پالیسی اداروں کی رپورٹس میں ظاہر کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ احتجاج اسی تسلسل کا حصہ ہیں جہاں عوامی دباؤ حکومتوں کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
اسرائیل میں بھی جنگ مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے جو ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے حملوں کے بعد ہونے والے نقصانات کے تناظر میں تل ابیب میں تقریباً 1500 افراد نے احتجاجی ریلی نکالی اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس احتجاج کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا، جنگ مخالف بینرز اور پوسٹرز پھاڑ دیے اور کم از کم 18 افراد کو گرفتار کر لیا۔ اسرائیل میں اس نوعیت کے مظاہرے نسبتاً کم دیکھے جاتے ہیں، جس سے داخلی سطح پر بڑھتی بے چینی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
امریکا میں بھی ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے خدشات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر “نو کنگز” مظاہرے ہوئے۔ نیویارک، واشنگٹن اور دیگر بڑے شہروں میں ہزاروں افراد نے ریلیاں نکالیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
“نو کنگز” مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ صدر ٹرمپ پوری دنیا کو بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارا واضح پیغام ہے “نو مور کنگز”، ہم اپنے ملک میں آمریت نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص نے ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، جو جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
امریکا میں جنگ مخالف تحریک کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، خصوصاً 2003 میں عراق جنگ کے دوران لاکھوں افراد نے احتجاج کیا تھا، جسے جدید تاریخ کے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ “نو کنگز” مظاہرے اسی روایت کا تسلسل ہیں جہاں عوامی دباؤ حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مختلف ممالک پس پردہ رابطوں کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر عوامی دباؤ برقرار رہا تو پالیسی سازوں کو جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل کشیدگی آئندہ دنوں میں عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead