محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے بعد خود ساختہ 65 فیصد اضافہ ختم کر کے نیا کرایہ نامہ جاری کر دیا

محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد بین الاضلاعی کرایوں میں 25 فیصد اضافہ منظور کرتے ہوئے نیا کرایہ نامہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے کے تحت ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اعلان کردہ 60 سے 65 فیصد خود ساختہ اضافہ ختم کر دیا گیا، جبکہ نئے کرایوں کا فوری اطلاق یقینی بنانے کے لیے تمام بس اڈوں کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔
حکام کے مطابق لاہور سے مختلف شہروں کے کرایوں میں نظرثانی کی گئی ہے، جس کے تحت Lahore سے Rawalpindi ایگزیکٹو کلاس کا کرایہ 2480 سے بڑھا کر 3100 روپے کر دیا گیا، جبکہ اکنامک کلاس 3680 سے 4600 اور فرسٹ کلاس 3800 سے 4750 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح Peshawar کے لیے ایگزیکٹو کرایہ 3950 اور اکنامک 5400 روپے کر دیا گیا۔
دیگر روٹس میں Sargodha اور Faisalabad کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا گیا، جہاں ایگزیکٹو کلاس تقریباً 1600 روپے اور اکنامک 2150 سے 2200 روپے تک پہنچ گئی۔ Sialkot اور ڈسکہ کے لیے ایگزیکٹو کرایہ 1450 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
جنوبی پنجاب اور دیگر دور دراز شہروں کے لیے کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ Multan کے لیے ایگزیکٹو 2750 اور اکنامک 3500 روپے، جبکہ Bahawalpur کے لیے ایگزیکٹو 3200 اور اکنامک 4600 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح احمد پور، تونسہ اور رحیم یار خان کے روٹس پر بھی نئی قیمتیں نافذ کر دی گئی ہیں۔
| Route | Executive (New) | Economy (New) | First Class (New) | Old Executive | Old Economy |
|---|---|---|---|---|---|
| Lahore to Rawalpindi | Rs 3,100 | Rs 4,600 | Rs 4,750 | Rs 2,480 | Rs 3,680 |
| Lahore to Peshawar | Rs 3,950 | Rs 5,400 | – | Rs 3,150 | Rs 4,300 |
| Lahore to Sargodha | Rs 1,600 | Rs 2,200 | – | Rs 1,270 | Rs 1,750 |
| Lahore to Faisalabad | Rs 1,600 | Rs 2,150 | – | Rs 1,270 | Rs 1,700 |
| Lahore to Multan | Rs 2,750 | Rs 3,500 | – | Rs 2,200 | Rs 2,800 |
| Lahore to Bahawalpur | Rs 3,200 | Rs 4,600 | – | – | – |
| Lahore to Karachi | Rs 9,650 | Rs 12,300 | Rs 13,700 | – | – |
| Lahore to Quetta | Rs 5,600 | Rs 7,200 | Rs 8,700 | – | – |
شمالی علاقوں کی جانب سفر کے لیے Murree اور Mingora کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جہاں ایگزیکٹو کرایہ بالترتیب 4150 اور 4050 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بلوچستان اور سندھ کے طویل روٹس پر اضافہ مزید نمایاں ہے، جہاں Quetta، Karachi اور Hyderabad کے لیے کرایوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے یکطرفہ طور پر کرایوں میں 65 فیصد تک اضافہ کر دیا تھا۔ حکومت نے اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کیا تاکہ عوام کو غیر معمولی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
پاکستان میں ٹرانسپورٹ سیکٹر براہ راست ایندھن کی قیمتوں سے متاثر ہوتا ہے۔ Pakistan Bureau of Statistics کے مطابق ٹرانسپورٹ کے اخراجات مہنگائی کے بڑے عوامل میں شامل ہیں، اور ایندھن کی قیمتوں میں ہر اضافہ کرایوں پر فوری اثر ڈالتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مقامی سطح پر بھی دباؤ بڑھایا ہے۔
ماہرین کے مطابق 25 فیصد اضافہ نسبتاً معتدل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹرز اس سے کہیں زیادہ اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک طرف ٹرانسپورٹ سیکٹر کو چلتا رکھا جائے اور دوسری جانب عوام کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے کرایہ نامے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔ بس اڈوں پر کرایہ نامہ آویزاں کرنے کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور مسافروں کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
یہ اقدام Punjab Transport Department کی جانب سے بڑھتی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، جبکہ آئندہ کرایوں کا انحصار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور معاشی حالات پر رہے گا۔
UrduLead UrduLead