راولپنڈی، لاہور اور جھنگ سمیت مختلف شہروں میں نقل کے درجنوں کیسز سامنے آئے، حکام نے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں تیز کر دیں

پنجاب بھر میں جاری میٹرک (SSC) سالانہ امتحانات 2026 کے دوران نقل کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آ گئی ہے، جہاں مختلف شہروں میں متعدد امیدوار نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے جبکہ اساتذہ اور عملے کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور سخت نگرانی کے باعث اس سال نقل کے بڑے کیسز بے نقاب ہو رہے ہیں۔
راولپنڈی میں Board of Intermediate and Secondary Education Rawalpindi نے دو روز کے دوران 20 طلبہ کو نقل کرتے ہوئے پکڑا، جن میں سب سے بڑا واقعہ بسالی کے ایک امتحانی مرکز میں سامنے آیا جہاں 16 امیدوار رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ دیگر کیسز تلہ گنگ، خیابان سر سید اور کلر سیداں کے مراکز سے رپورٹ ہوئے، جنہیں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے ذریعے پکڑا گیا۔
امتحانی حکام کے مطابق کنٹرول روم سے ریئل ٹائم نگرانی نے نقل کی روک تھام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے متعدد مراکز کے دورے کیے جبکہ تمام کیسز کو Unfair Means Cases کے تحت ڈسپلن برانچ کو بھجوا دیا گیا ہے۔
لاہور میں Board of Intermediate and Secondary Education Lahore نے بھی کارروائیاں کرتے ہوئے 8 امیدواروں کو نقل یا جعلی رول نمبر سلپس کے ساتھ پکڑا۔ حکام کے مطابق ایک سکول ٹیچر پر جعلی سلپس جاری کرنے کا الزام سامنے آیا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔
ادھر جھنگ اور جنیوٹ میں نقل کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تین اساتذہ کو معطل کر دیا گیا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق اساتذہ کے خلاف مزید کارروائی Punjab Employees Efficiency Discipline and Accountability Act کے تحت کی جائے گی، جو سرکاری ملازمین کے احتساب کا بنیادی قانون ہے۔
تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال نقل کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں سی سی ٹی وی کیمروں، بائیومیٹرک حاضری اور کیو آر کوڈ اسکیننگ کا استعمال شامل ہے۔ حساس امتحانی مراکز پر خصوصی نگرانی کے ساتھ فلائنگ اسکواڈز بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
پنجاب بھر میں تقریباً 28 لاکھ طلبہ میٹرک امتحانات میں شریک ہیں، جس کے باعث امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ Punjab Education Department کے مطابق نقل کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور تعلیمی بورڈز کے درمیان قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نقل ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جو نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ میرٹ کی بنیاد کو بھی کمزور کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس رجحان کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم مکمل خاتمے کے لیے مسلسل نگرانی اور سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz کی ہدایات پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت نقل کرنے والے طلبہ کے ساتھ ساتھ سہولت فراہم کرنے والے اساتذہ اور عملے کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
حکام نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایمانداری سے امتحانات دیں اور غیر قانونی ذرائع سے گریز کریں، کیونکہ نقل نہ صرف امتحان کی منسوخی کا سبب بنتی ہے بلکہ مستقبل کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
پنجاب میں جاری اس کریک ڈاؤن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے سنجیدہ ہے، اور Board of Intermediate and Secondary Education Rawalpindi سمیت دیگر بورڈز میں نقل کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
UrduLead UrduLead