اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل 11 کے میچ میں راولپنڈیز کو سات وکٹ سے ہرا کر پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کرلی

لاہور میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے 12ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے مضبوط کارکردگی دکھاتے ہوئے راولپنڈیز کو بآسانی شکست دی۔ بارش سے متاثرہ ٹاس کے بعد اسلام آباد نے پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو بعد میں درست ثابت ہوا۔
راولپنڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 156 رنز بنائے۔ ٹیم کی جانب سے کامران غلام نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی۔ انہوں نے درمیانی اوورز میں اننگز کو سنبھالا اور اسکور کو آگے بڑھایا۔ ڈیان فوریسٹر نے بھی 44 رنز کی اہم اننگز کھیلی، جس سے ٹیم کو قابلِ دفاع ہدف دینے میں مدد ملی۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کی باؤلنگ لائن نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ فہیم اشرف، سلمان ارشد اور گلیسن نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ ان باؤلرز نے پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں رنز کی رفتار کو محدود رکھا۔ پاکستان سپر لیگ کے حالیہ سیزنز میں ڈیفنس آف ٹوٹلز ایک بڑا چیلنج رہا ہے، جہاں 160 سے کم اسکور اکثر غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

157 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے جارحانہ آغاز کیا۔ ٹیم نے صرف 15 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔ اس کامیابی میں نوجوان بیٹر سمیر منہاس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 36 گیندوں پر 70 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں کئی باؤنڈریز اور چھکے شامل تھے۔
حیدر علی نے 26 رنز بنائے اور مارک چیپمین 24 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے میچ کو پرسکون انداز میں اختتام تک پہنچایا۔ اسلام آباد کی بیٹنگ حکمت عملی میں پاور ہٹنگ اور اسٹرائیک روٹیشن کا واضح توازن نظر آیا، جو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا اہم جزو بن چکا ہے۔
راولپنڈیز کی جانب سے محمد عامر، جلالت خان اور رشاد حسین نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ تاہم باؤلرز مطلوبہ دباؤ برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ڈیٹا کے مطابق، درمیانی اوورز میں وکٹیں نہ لینا اکثر میچ کے نتیجے پر اثرانداز ہوتا ہے، جو اس مقابلے میں بھی واضح نظر آیا۔
اس نتیجے کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔ ٹیم کی مسلسل بہتر کارکردگی اسے پلے آف مرحلے کے قریب لے جارہی ہے۔ دوسری جانب راولپنڈیز ساتویں پوزیشن پر موجود ہے، جس سے اس کی کوالیفیکیشن کی امیدیں دباؤ میں آگئی ہیں۔
پوائنٹس ٹیبل پر کراچی کنگز سرفہرست ہیں، جبکہ لاہور قلندرز تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ ملتان سلطانز چوتھے اور پشاور زلمی پانچویں نمبر پر ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چھٹے جبکہ حیدرآباد کنگز آٹھویں نمبر پر ہیں۔ لیگ مرحلے میں ہر میچ کی اہمیت بڑھ چکی ہے کیونکہ ٹیمیں پلے آف کے لیے سخت مقابلہ کررہی ہیں۔
پاکستان سپر لیگ گزشتہ دہائی میں ملک کی سب سے بڑی کرکٹ برانڈ بن چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق، لیگ کی ویلیو اور ناظرین کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے۔ 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پی ایس ایل کے ڈیجیٹل ویورشپ میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو اس کی بڑھتی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
UrduLead UrduLead