صارفین کو مبینہ طور پر انٹرنیٹ پیکج خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، بصورت دیگر ان کی لینڈ لائن سروس منقطع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

ملک کے مختلف علاقوں میں Pakistan Telecommunication Company Limited کی جانب سے فائبر آپٹک نیٹ ورک کی تنصیب کے دوران صارفین کی شکایات سامنے آئی ہیں کہ انہیں لینڈ لائن برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ پیکج لینا لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
صارفین نے بتایا کہ ان کی لینڈ لائن سروس کئی ہفتوں سے معطل ہے۔ بعد ازاں کمپنی کے نمائندوں نے انہیں آگاہ کیا کہ پرانے کاپر وائر سسٹم کو ختم کر کے فائبر نیٹ ورک متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت صرف انٹرنیٹ کے ساتھ ہی لینڈ لائن فراہم کی جائے گی۔
صارفین کے مطابق انہیں فون کالز کے ذریعے کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ پیکج نہیں لیتے تو ان کا لینڈ لائن نمبر مستقل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ کئی صارفین نے اس عمل کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صرف لینڈ لائن سروس برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
متعدد شہریوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی نجی انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان استعمال کر رہے ہیں جو بہتر اور مستحکم سروس فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک اضافی انٹرنیٹ کنکشن لینا ان کے لیے مالی بوجھ کا باعث بنے گا۔
ایک صارف نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں پی ٹی سی ایل کی انٹرنیٹ سروس استعمال کی تھی لیکن ناقص کارکردگی کے باعث اسے ترک کر دیا تھا، خاص طور پر کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران بار بار سروس بند ہونے سے انہیں تعلیمی نقصان اٹھانا پڑا۔
کچھ صارفین نے بتایا کہ انہیں تین ماہ تک بل نہ لینے کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم اس کے لیے پیشگی ادائیگی لی جا رہی ہے، جس پر مزید ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ آزمائشی مدت ہے یا مستقل معاہدے کا حصہ۔
ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے بعض صارفین کو تحریری جواب میں کہا گیا کہ فائبر سسٹم میں انٹرنیٹ بنیادی سروس ہے اور صرف لینڈ لائن فراہم کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس مؤقف نے صارفین میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔
پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر تیزی سے فائبر آپٹک ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک ملک میں براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 130 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق فائبر ٹو دی ہوم (FTTH) ٹیکنالوجی روایتی کاپر نیٹ ورک کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مستحکم انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ٹیلی کام کمپنیاں پرانے نیٹ ورک کو ختم کر کے جدید نظام متعارف کروا رہی ہیں۔
پاکستان میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں Pakistan Telecommunication Company Limited نے بڑے پیمانے پر فائبر نیٹ ورک کی توسیع شروع کر رکھی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں ڈیجیٹل خدمات کی طلب بڑھ رہی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منتقلی کے دوران صارفین کو مکمل معلومات اور متبادل آپشنز فراہم کرنا ضروری ہے۔ کئی ممالک میں صارفین کو صرف وائس سروس برقرار رکھنے کی سہولت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق خدمات کا انتخاب کر سکیں۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں انٹرنیٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر ملکی برآمدات میں اہم حصہ ڈال رہے ہیں، جبکہ فری لانسنگ اور آن لائن کاروبار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی دوران نجی انٹرنیٹ کمپنیوں کی موجودگی نے مسابقت کو فروغ دیا ہے، جس سے صارفین کو بہتر سروس اور قیمتوں کے انتخاب کا موقع ملا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صارفین پی ٹی سی ایل کا انٹرنیٹ لینے کے بجائے اپنے موجودہ فراہم کنندگان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
ریگولیٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں Pakistan Telecommunication Authority کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی زبردستی یا غیر شفاف پالیسیوں کا سدباب ہو۔
UrduLead UrduLead