بدھ , فروری 18 2026

پی ٹی سی ایل کو شدید مالی بحران کا سامنا

جمع شدہ نقصانات 50 ارب روپے سے تجاوز

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، بھاری قرضوں اور سخت مسابقتی ماحول کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرکاری اداروں کی مالی سال 2025 کی سالانہ مجموعی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے گزشتہ مالی سال میں 10.462 ارب روپے کا خالص نقصان ریکارڈ کیا، جس کے بعد اس کے مجموعی جمع شدہ نقصانات بڑھ کر 50.150 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پی ٹی سی ایل کی مالی پوزیشن پر سب سے بڑا خطرہ اس کا بڑھتا ہوا قرض اور اس سے جڑی فنانسنگ لاگت ہے۔ کمپنی کی لیوریج بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں قرض کی ادائیگی کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور کیش فلو پر انحصار مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران کمپنی کو 36.55 ارب روپے کی فنانس لاگت برداشت کرنا پڑی، جو اس کے 20.1 ارب روپے کے آپریٹنگ منافع سے تقریباً دگنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر شرح سود میں مزید اضافہ ہوا یا آپریشنل کیش فلو متاثر ہوا تو کمپنی کی مالی بقا (سالوینسی) کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پی ٹی سی ایل کی رسک پروفائل میں ایک اہم عنصر ٹیلی نار کے 400 ملین ڈالر کے حصول کا معاہدہ بھی ہے، جسے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) سے حاصل کردہ ڈالر قرض کے ذریعے فنڈ کیا گیا۔ چونکہ کمپنی کی آمدنی زیادہ تر پاکستانی روپے میں ہے جبکہ قرض امریکی ڈالر میں ہے، اس لیے روپے کی قدر میں کمی قرض کی ادائیگی کو مزید مہنگا بنا سکتی ہے۔

رپورٹ میں اس پہلو کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر کمپنی ڈالر قرض کی بروقت ادائیگی نہ کر سکی تو حکومت کی اکثریتی شیئر ہولڈنگ کے باعث یہ بوجھ بالواسطہ طور پر وفاقی خزانے پر منتقل ہو سکتا ہے۔

مارکیٹ کے حوالے سے پی ٹی سی ایل کو اب مکمل مسابقتی ماحول کا سامنا ہے۔ ماضی کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے اور نجی شعبے کی مضبوط کمپنیوں سے مقابلہ جاری ہے۔ کمپنی کو جدید نیٹ ورک اپ گریڈز پر بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑ رہی ہے جبکہ قیمتوں میں اضافہ محدود ہونے کے باعث منافع کے مارجن دباؤ میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مالی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو کمپنی کو اپنے غیر بنیادی اثاثے یا رئیل اسٹیٹ فروخت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

آئی سی ٹی اور انفراسٹرکچر سیکٹر میں نقصان اٹھانے والے اداروں کا آپریٹنگ لاگت ریکوری ریٹیو (OCRR) 0.80 تک گر چکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر 100 روپے کے اخراجات پر صرف 80 روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔

بحالی کے لیے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) نے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں غیر استعمال شدہ اثاثوں کی فروخت، قرض کی ری اسٹرکچرنگ اور کرنسی ہیجنگ شامل ہیں تاکہ شرح مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق شفاف مالی حکمت عملی، اخراجات میں نظم و ضبط اور قرض کے بوجھ میں کمی کے بغیر پی ٹی سی ایل کی منافع بخش بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ٹی20 ورلڈ کپ 2026: گروپ مرحلہ سنسنی خیز موڑ پر

آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا گروپ مرحلہ اپنے فیصلہ کن مرحلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے