
پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر محسن گیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں پروفیشنل فٹبال لیگ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ لیگ پی ایس ایل طرز کی نہیں بلکہ پی ایف ایف اسٹائل ہوگی، جو فرنچائز ماڈل کے بجائے کلب کی بنیاد پر قائم کی جائے گی۔محسن گیلانی نے بتایا کہ پی ایف ایف کا بنیادی فوکس نیشنل مردوں اور خواتین کی ٹیموں کی بہتری پر ہے۔
پاکستان کے پاس فی الحال ایک تجربہ کار کوچ نولبرٹو سولانو موجود ہیں، جن سے مکمل فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ سٹاف کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور سولانو پر مکمل اعتماد ہے۔
فیڈریشن انہیں ہر ممکن سپورٹ فراہم کرے گی۔انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے صدر پی ایف ایف نے بتایا کہ منی پچز لگانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دو پچز مکمل ہو چکی ہیں۔
قومی ٹیم کی تیاریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رمضان کی وجہ سے میانمار کے خلاف میچ سے پہلے فرینڈلی میچز نہیں کھیلے جا سکے، تاہم کوچ سولانو نے جلد قومی کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
محسن گیلانی کا یقین ہے کہ افغانستان کے خلاف اچھی کارکردگی کے بعد میانمار کے خلاف میچ جیتا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ہم پلہ ٹیم ہے۔ ٹیم کا انتخاب مکمل طور پر کوچ کے اختیار میں ہے۔
انہوں نے فیفا کے ساتھ بہتر تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پی ایف ایف کے لیے کام آسان ہو گیا ہے۔ فٹسال میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں نے تھائی لینڈ میں میچ کھیلا، جبکہ ساف چیمپئن شپ کے انعقاد کے لیے حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
محسن گیلانی نے زور دیا کہ بیرون ملک مقیم اور مقامی کھلاڑیوں کے درمیان فرق ختم کیا جائے گا۔ اگر کوئی کھلاڑی فیفا کے اصولوں کے مطابق پاکستان کے لیے اہل ہے اور کوچ اسے بہتر سمجھے تو وہ قومی ٹیم کی نمائندگی کر سکے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہمارے کھلاڑی بیرون ملک جا کر کھیلنا شروع کر دیں تو کیا وہ غیر ملکی ہو جائیں گے؟ان کا کہنا تھا کہ فٹبال کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان روابط بڑھائے جا سکتے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آخر میں صدر پی ایف ایف نے پرامید بات کی کہ اگلے دو سالوں میں قومی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔ انڈر 17 ٹیم کی اچھی کارکردگی اس کی مثال ہے، جو مستقبل میں سینئر سطح پر بھی کامیابی دکھائے گی۔
UrduLead UrduLead