منگل , فروری 17 2026

بابر شاہین شاداب کو ٹیم سے باہر کرنے کا مطالبہ

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف ایک بار پھر پاکستان کی شرمناک شکست کے بعد سابق کپتانز محمد یوسف اور شاہد آفریدی نے ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں ٹیم سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق کپتان محمد یوسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “شاہین، بابر اور شاداب کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

پاکستان کے ٹی20 اسکواڈ کو کمزور ٹیموں کے خلاف خالی جیت کی نہیں بلکہ نئے پرفارمرز کی ضرورت ہے۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کر کے نئے ٹیلنٹ کو موقع دیا جائے۔

دوسری جانب سابق کپتان شاہد آفریدی نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اگر میرے ہاتھ میں فیصلہ ہو تو میں شاہین، بابر اور شاداب کو باہر بٹھا دوں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اتنے عرصے سے یہی لوگ کھیلتے دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ہمیں ان سے بڑی امید ہوتی ہے کہ بڑے میچ میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے، لیکن اتنے تجربہ کار کھلاڑی بھی ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر باہر بیٹھے جونیئرز کو کھلانا چاہیے۔

“شاہد آفریدی نے آنے والے نمبیا کے میچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “نمبیا کے خلاف اگر میرے ہاتھ میں اختیار ہو تو میں نئے لڑکوں کو کھلاؤں گا، انہیں اعتماد دوں گا اور ان کی صلاحیتوں کو آزماؤں گا۔”

انہوں نے بھارت کے خلاف میچ میں شاہین کی رفتار، ابرار کی مسٹری اور شاداب کے تجربے کے باوجود کوئی بھی چیز کام نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

سابق کپتان نے پاکستان کرکٹ کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ “جب تک ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط نہیں کریں گے، کھلاڑیوں کی گرومنگ اور اسکلز پر کام نہیں کریں گے تو نتائج یہی رہیں گے۔”

انہوں نے ہر بڑے شہر میں کرکٹ اکیڈمیز قائم کرنے اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھرپور سرمایہ کاری کرنے پر زور دیا۔

دونوں سابق کپتانوں کی یہ تنقید پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ ناکامیوں کے بعد بڑھتی ہوئی عوامی اور سابق کھلاڑیوں کی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔

شائقین کرکٹ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹیم میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

نئی قانون سازی سے طب کالجز بند، ڈگریاں بے معنی

پاکستان میں یونانی طب (حکمت) کے طلبہ اور سینکڑوں سال پرانے روایتی علاج کے ماہرین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے