
بڑھتے ہوئے عالمی اور مقامی سائبر حملوں کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مالیاتی شعبے کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمت عملی ’’سائبر شیلڈ – ریگولیٹڈ اداروں کے لیے سائبر ریزیلینس اسٹریٹیجی 2025-2030‘‘ متعارف کرا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو جدید ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق یہ اسٹریٹیجی وژن 2028 کا حصہ ہے اور اسے بین الاقوامی بہترین اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ حکمت عملی ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے ریگولیٹڈ ادارے اپنے آئی ٹی سسٹمز، داخلی کنٹرولز اور حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنا سکیں گے۔ اس میں سائبر حملوں کی روک تھام، بروقت ردعمل اور متاثرہ نظام کی فوری بحالی کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے تاکہ صارفین اور کاروباری ادارے بلاخوف ڈیجیٹل مالی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حالیہ برسوں میں بینکاری شعبے کو ہیکنگ، ڈیٹا چوری، رینسم ویئر اور فِشنگ جیسے پیچیدہ خطرات کا سامنا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ’’سائبر شیلڈ‘‘ کو ایک جامع اور مستقبل بین فریم ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو مالیاتی نظام کو نہ صرف محفوظ بنائے گا بلکہ اس کی لچک (ریزیلینس) بھی بڑھائے گا۔
اس اسٹریٹیجی کی پانچ بنیادی ترجیحات مقرر کی گئی ہیں:
- بینکوں اور مالیاتی اداروں کی سائبر حملوں کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا
- سائبر سکیورٹی گورننس اور جوابدہی کے نظام کو بہتر بنانا
- مالیاتی شعبے میں معلومات کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دینا
- ماہر سائبر سکیورٹی افرادی قوت کی تیاری اور تربیت
- ابھرتے ہوئے خطرات کے مطابق حفاظتی اقدامات کی مسلسل اپ ڈیٹ
ایس بی پی کا کہنا ہے کہ وہ عالمی سائبر رجحانات اور مقامی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر اس حکمت عملی میں ترامیم بھی کرے گا۔ تمام ریگولیٹڈ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سائبر سکیورٹی پروگرامز کو اس فریم ورک کے مطابق ہم آہنگ کریں۔ اس عمل کو مرحلہ وار 2030 تک مکمل کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے ساتھ آن لائن مالیاتی لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے مواقع کے ساتھ خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ’’سائبر شیلڈ‘‘ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط اور ہمہ جہت نقطہ نظر فراہم کرے گی، جس کے ذریعے کسی بھی ممکنہ سائبر حملے کی صورت میں کاروباری سرگرمیوں کو جلد بحال کرنا ممکن ہوگا۔
ماہرین اسے پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم اور بروقت قدم قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی سے صارفین کے ڈیٹا اور سرمایہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا، ڈیجیٹل جدت کو محفوظ ماحول میسر آئے گا اور مجموعی مالی استحکام کو تقویت ملے گی۔
UrduLead UrduLead