
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور ممبران کو ملنے والی مراعات اور فیسوں پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق پی ٹی سی ایل چیئرمین ہر اجلاس کے لیے 8 ہزار امریکی ڈالر وصول کرتے ہیں، جبکہ بورڈ کے ڈائریکٹرز کو فی میٹنگ 5 ہزار ڈالر ادا کیے جاتے ہیں۔
بورڈ کمیٹیوں کے ہر رکن کو اضافی طور پر فی اجلاس ایک ہزار ڈالر کی ادائیگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی سی ایل کو ماہانہ 25 ہزار روپے اعزازیہ بھی دیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں 1300 سی سی کی سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت بھی میسر ہے۔یہ مراعات مالی دباؤ اور ادارے کی مشکلات کے باوجود جاری ہیں، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام میں تین مرتبہ بحث ہو چکی ہے۔
سینیٹرز نے ان ادائیگیوں کو غیر شفاف اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر جب یہ سرکاری ملازمین (وفاقی سیکرٹریز اور وزیر) کو دی جا رہی ہوں جو پہلے سے ہی سرکاری تنخواہوں پر فائز ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پی ٹی سی ایل بورڈ میں تین وفاقی سیکرٹریز اور ایک وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ بطور ممبر شامل ہیں۔
سینیٹ کمیٹی نے ان بھاری ڈالر ادائیگیوں پر سوال اٹھایا کہ یہ حکومت کی طرف سے مقررہ سالانہ حد (ایک ملین روپے) سے کہیں زیادہ ہیں۔
سینیٹرز کا کہنا ہے کہ جب پی ٹی سی ایل مالی مسائل سے دوچار ہے تو اعلیٰ عہدیداروں کی شاہانہ مراعات ناقابلِ قبول ہیں۔
کمیٹی نے مزید تفصیلات اور شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے تسلسل سے زیرِ بحث رکھا ہوا ہے۔یہ انکشافات پی ٹی سی ایل کی کارکردگی اور گورننس پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ عوامی ادارے میں ٹیکس پیئرز کے پیسوں کا استعمال بھی زیرِ بحث ہے۔
UrduLead UrduLead