
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کاروباری روابط برقرار رکھنے والے تمام ممالک پر سخت معاشی پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “فوری طور پر نافذ العمل” یہ حکم ہے کہ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تجارت کرے گا، اسے امریکہ کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ حتمی اور ناقابلِ تبدیلی ہے، اور اس میں کسی قسم کی رعایت نہیں کی جائے گی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ لین دین جاری رکھنے والے ممالک کو امریکی منڈی میں داخل ہونے پر اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ اعلان ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں احتجاج شدت اختیار کر چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کریک ڈاؤن جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
حالیہ بیان میں انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیرف خاص طور پر چین، بھارت، ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جو عالمی تجارت اور معیشت پر وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead