
گزشتہ کئی ماہ کی شدید سیاسی کشیدگی اور عوامی تلخی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین ٹیکنالوجی صنعت کار ایلون مسک کے تعلقات میں نرمی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
فلوریڈا میں واقع صدر ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ مارالاگو میں ہونے والی ایک نجی تقریب نے سیاسی اور سوشل میڈیا حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کی، جسے انہوں نے “خوشگوار عشائیہ” قرار دیا اور آنے والے سال 2026 کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کیا۔
یہ تصویر وائرل ہوتے ہی صارفین نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ دونوں طاقتور شخصیات کے درمیان پرانی قربت دوبارہ بحال ہو رہی ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دونوں کے تعلقات گزشتہ برس شدید تناؤ کا شکار رہے تھے۔
2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے متنازع ٹیکس اور اخراجاتی بل، جسے “ون بگ بیوٹی فل بل” کا نام دیا گیا، پر ایلون مسک نے سخت تنقید کی تھی۔ مسک کا مؤقف تھا کہ یہ قانون غیر ضروری اخراجات اور سیاسی مفادات سے بھرا پڑا ہے۔
Had a lovely dinner last night with @POTUS and @FLOTUS.
— Elon Musk (@elonmusk) January 4, 2026
2026 is going to be amazing! pic.twitter.com/1Oq35b1PEC
جواب میں صدر ٹرمپ نے اس تنقید کو ذاتی ناراضی سے جوڑا اور کہا کہ مسک دراصل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی جانے والی سرکاری مراعات ختم ہونے پر ناخوش ہیں۔اس اختلاف نے سنگین صورت اختیار کر لی تھی جب صدر نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کو ملنے والے سرکاری معاہدوں اور سبسڈیز پر نظرثانی کی دھمکی دی۔
مسک نے بھی ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کے اشارے دیے تھے۔ یوں 2024 کے صدارتی انتخاب میں مالی اور سیاسی طور پر مضبوط نظر آنے والا یہ اتحاد اچانک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔تاہم، 2025 کے اختتام تک دونوں جانب سے لہجہ نرم ہوتا دکھائی دیا۔
ستمبر میں ایریزونا میں قدامت پسند رہنما چارلی کرک کی یادگاری تقریب کے دوران دونوں کو مصافحہ کرتے دیکھا گیا۔ نومبر میں ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس میں ایک اہم عشائیے میں شرکت کی، جہاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مہمان خصوصی تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مارالاگو کی حالیہ ملاقات محض ایک سماجی تقریب نہیں بلکہ مستقبل کی سیاسی ہم آہنگی کا عندیہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دونوں جانب سے باضابطہ طور پر کسی مفاہمت کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن تصویروں اور بیانات نے یہ تاثر ضرور دیا ہے کہ امریکی سیاست کے یہ دو بڑے کردار ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
دوسری جانب، ناقدین نے اسے ایک متنازع سیاسی اتحاد قرار دیا ہے۔ بعض مخالف آوازوں نے پرانے اور غیر مصدقہ الزامات کو دوبارہ اٹھا کر اس پوسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ ملاقات امریکہ کی ٹیکنالوجی اور سیاسی منظر نامے پر مثبت اثرات مرتب کرے گی یا نئی کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
حالیہ پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 میں دونوں کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، خاص طور پر خلائی تحقیق، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں۔ تاہم، حتمی صورتحال کا انحصار آنے والے مہینوں پر ہے۔
UrduLead UrduLead