
رائیونڈ روڈ پر واقع یونیورسٹی آف لاہور میں فارمیسی کی طالبہ کی جانب سے مبینہ خودکشی کی کوشش کے افسوسناک واقعے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کی سربراہی ڈین فیکلٹی آف لاء جسٹس (ریٹائرڈ) محمد بلال خان کریں گے۔کمیٹی کے ارکان میں پروفیسر مغیث الدین، پروفیسر احمد بلال، فرخ حفیظ، ڈاکٹر عائشہ، علی اسلم، محمد عامر اور اسماہان رمضان شامل ہیں۔ محمد عامر اور اسماہان رمضان زخمی طالبہ کے کلاس فیلوز ہیں۔
کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔واقعہ 4 جنوری کو پیش آیا جب 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کی عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں تشویشناک حالت میں پہلے یونیورسٹی کے ٹیچنگ ہسپتال اور پھر جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال ذرائع کے مطابق طالبہ کو دماغی چوٹ، کمر کی ہڈیوں اور گھٹنوں میں فریکچر آئے ہیں اور وہ ہوش میں نہیں ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔یہ واقعہ اسی یونیورسٹی میں دوسرا ہے جہاں دسمبر 2025 میں فارمیسی کے طالب علم محمد اویس نے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی کو بند کر دیا گیا، طلبہ نے احتجاج کیا اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے۔ یونیورسٹی موبائل کلپس میں سیکیورٹی گارڈز کو زخمی طالبہ کو لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی رجسٹرار علی اسلم نے بتایا کہ طالبہ کا داخلہ ستمبر 2025 میں ہوا تھا اور فیس کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
انتظامیہ نے طلبہ کی حفاظت کے لیے کیمپس بند کرکے کلاسز آن لائن شفٹ کر دی ہیں۔ طلبہ نے انتظامیہ سے حفاظتی اقدامات تک آن لائن کلاسز جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسی یونیورسٹی کے ڈی فارم ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد یہ دوسرا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
UrduLead UrduLead