
نومسلم بھارتی خاتون نور حسین (سابقہ نام سربجیت کور) کو ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر آج واہگہ بارڈر کے راستے بھارت واپس بھیجا جائے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور 4 نومبر 2025 کو بابا گرو نانک دیو جی کی پرکاش پرب منانے کے لیے بھارتی سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔
قیام کے دوران 5 نومبر کو انہوں نے اسلام قبول کیا اور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے نکاح کر لیا، جس کے بعد ان کا نام نور حسین رکھا گیا۔خاتون کے لاپتہ ہونے کا انکشاف 13 نومبر 2025 کو ہوا جب یاتریوں کا جتھہ بھارت واپس پہنچا، لیکن وہ شامل نہ تھیں۔
ان کے ویزے کی معیاد 14 نومبر 2025 کو ختم ہو چکی تھی، جس پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت ڈی پورٹیشن کا عمل شروع کیا گیا۔
پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندر پال سنگھ نے لاہور ہائی کورٹ میں خاتون کی ڈی پورٹیشن کے لیے درخواست دائر کی تھی، تاہم عدالتی فیصلے سے قبل ہی کارروائی آگے بڑھا دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز قبل ننکانہ صاحب کے قریب گاؤں پہرے والی میں پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی میں نور حسین اور ان کے شوہر ناصر حسین کو حراست میں لیا گیا تھا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد خاتون کو آج واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارتی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
UrduLead UrduLead