منگل , جنوری 27 2026

نئی موبائل پالیسی 2026-33: استعمال شدہ موبائلز کی درآمد پر پابندی، لوکلائزیشن ناکامی پر جرمانے

حکومت پاکستان نے موبائل اور الیکٹرک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

اس پالیسی کا مقصد درآمدات کم کرنا، برآمدات بڑھانا اور ملک میں ہائی ٹیک انڈسٹری کو مضبوط بنانا ہے۔پالیسی کے تحت استعمال شدہ (یوزڈ) موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو تحفظ ملے۔

اس کے علاوہ، 2جی ہینڈ سیٹس کی مینوفیکچرنگ پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) 2جی ہینڈ سیٹس سے متعلق ٹائپ الوکیشن کوڈ کی ایکٹیویشن محدود کر دے گی۔

مزید برآں، پانچ سال پرانے موبائل فونز کی رجسٹریشن پر بھی پابندی ہو گی۔برآمدات کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے موبائل فونز کی برآمد پر 8 فیصد فکسڈ اور نان ڈسکریشنری ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) الاؤنس کی منظوری دی ہے، جس سے 103 ارب روپے کا ریبیٹ ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ یہ الاؤنس برآمد شدہ موبائل ڈیوائسز کی verifiable Free on Board (FoB) ویلیو پر حساب کیا جائے گا۔

پالیسی میں لوکلائزیشن (مقامی پرزوں کی تیاری) کے ہدف پورے نہ کرنے والی کمپنیوں پر سخت جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ ناکامی کی صورت میں تمام مراعات اور چھوٹ یافتہ ڈیوٹیز واپس لے لی جائیں گی، نارمل ٹیرف ریٹس نافذ ہوں گے، امپورٹ لائسنسز پر پابندیاں لگائی جائیں گی اور سالانہ امپورٹ ویلیو کا 1 فیصد سرچارج کی صورت میں مالی جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

حکومت عالمی موبائل برانڈز جیسے ہواوئی، سیمسنگ، شیاؤمی، اوپو، ویوو اور نوکیا کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے کی دعوت دے رہی ہے۔ پالیسی کے تحت ہر لائسنس یافتہ OEM کو اپنے پرنسپل کے مخصوص علاقے میں کم از کم 10 فیصد ایکسپورٹ مارکیٹ شیئر حاصل کرنا لازمی ہو گا، جو مراعات کی اہلیت کا حصہ ہو گا۔

اس پالیسی کا مقصد 2033 تک موبائل فونز میں 50 فیصد لوکلائزیشن حاصل کرنا ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، فارن ایکسچینج کی بچت ہو گی اور پاکستان کو گلوبل ویلیو چینز میں شامل کیا جائے گا۔

خصوصی معاون وزیراعظم ہارون اختر خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ان اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔تاہم، جی ایس ایم اے (گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشنز ایسوسی ایشن) نے خبردار کیا ہے کہ موبائل فونز اور ٹیلی کام سیکٹر پر نئی ٹیکسز سرمایہ کاروں کو مایوس کر سکتی ہیں اور ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کو متاثر کر سکتی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے