
بھارتی سکھ یاتری سربجیت کور، جو 2 ہزار یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھیں، اسلام قبول کر کے شادی کرنے کے بعد ویزا ختم ہونے پر ممکنہ طور پر بھارت واپس بھیجی جا سکتی ہیں تاکہ وہ بعد میں اسپاؤس ویزا پر دوبارہ داخل ہو سکیں۔
سربجیت کور، عمر 48 سال، دیگر یاتریوں کے ساتھ 4 نومبر کو واہگہ بارڈر کے ذریعے لاہور داخل ہوئیں۔ یاتری 13 نومبر کو واپس روانہ ہوئے مگر وہ گروپ سے الگ ہو گئیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ 5 نومبر کو شیخوپورہ کے ناصر حسین سے نکاح کر چکی تھیں اور مذہب تبدیل کر کے اپنا اسلامی نام “نور” رکھ لیا تھا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بلال ظفر نے تصدیق کی کہ کور اپنی مرضی سے نکاح کر چکی ہیں اور انہیں اغوا نہیں کیا گیا۔ پولیس کے مطابق جوڑا تاحال لاپتا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے کور نے کہا کہ وہ 9 سال سے سوشل میڈیا پر ناصر حسین کو جانتی تھیں اور اسی مقصد کے تحت پاکستان آئی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد کچھ افراد ان کے شوہر کے گھر آئے، بدتمیزی کی اور انہیں جھوٹے مقدمات کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپنی اور شوہر کی حفاظت کی اپیل بھی کی۔
ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ شیروانی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کی پالیسی کے مطابق کوئی بھی تنہا عورت یاترا پر پاکستان نہیں آ سکتی، اور کور نے ضابطے کی خلاف ورزی کی۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام کو بھی یہ دیکھنا چاہیے کہ ایک اکیلی خاتون کو اجازت کیوں دی گئی۔
پاکستانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ کور کو ممکنہ طور پر بھارت واپس بھیجا جائے گا اور پھر انہیں اسپاؤس ویزا پر دوبارہ داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead