بدھ , اپریل 8 2026

حکومت کا اثاثہ ظاہر کرنے کا فیصلہ، دسمبر ڈیڈ لائن

پاکستان نے اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے اور سرکاری افسران کے اثاثے عام کرنے کا فیصلہ کر لیا، آئی ایم ایف کو گورننس بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی

IMF &SBP

اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف اصلاحات کے تحت دسمبر 2026ء تک اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے شفافیت بڑھانے کی بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اقدام International Monetary Fund کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت گورننس میں بہتری اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اینٹی کرپشن اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

حکومت نے National Accountability Bureau کے چیئرمین کی تعیناتی کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کا بھی منصوبہ تیار کیا ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت تقرری کے عمل میں اپوزیشن کی مؤثر نمائندگی شامل کرنے اور ایک بااختیار کمیشن کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق نیب، Federal Investigation Agency اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔ یہ ٹاسک فورس کرپشن کے مقدمات کی نگرانی، اثاثہ جات کی بازیابی اور بین الاقوامی تعاون کو بہتر بنانے پر کام کرے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت بیرون ملک منتقل کی گئی غیر قانونی دولت کی واپسی کے لیے عالمی معاہدوں کو مؤثر بنانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں کو اپ ڈیٹ کرنے اور نئے فریم ورک تیار کرنے پر کام جاری ہے۔

پاکستان میں ماضی میں کرپشن کے خلاف مہمات بارہا شروع کی گئیں، تاہم ان کے نتائج محدود رہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں اسکور 100 میں سے 29 رہا، جو گورننس کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مؤثر اصلاحات کے لیے ادارہ جاتی خودمختاری اور شفاف نظام ناگزیر ہے۔

حکومت نے اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس نظام کے تحت افسران اپنی مالی معلومات آن لائن جمع کروائیں گے، جبکہ بینکوں کو بھی ان اثاثوں تک محدود رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ تصدیقی عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق نیب کو مزید خودمختاری دینے اور اس کی کارکردگی رپورٹ باقاعدگی سے جاری کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے احتساب کے عمل میں شفافیت بڑھے گی اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی معیشت اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں ٹیکس نظام، توانائی شعبہ اور گورننس اصلاحات کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کے مطابق بہتر گورننس غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران کے اثاثے عوامی سطح پر لانے سے احتساب کا دائرہ وسیع ہوگا اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کے لیے سخت عملدرآمد اور سیاسی عزم ضروری ہوگا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اینٹی کرپشن اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ اصلاحات نہ صرف آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے بلکہ طویل مدتی اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔

حکومت نے کہا کہ شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رہیں گے اور دسمبر 2026ء تک اثاثہ جات کی تفصیلات عام کرنے کا ہدف حاصل کیا جائے گا، جس سے پاکستان میں گورننس کے نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL11: لاہور مرحلہ مکمل

ملتان سلطانز سرفہرست، وقفے کے بعد ایونٹ کراچی میں دوبارہ شروع Pakistan Super League سیزن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے