پاکستان کو عدالتوں سے جیتے گئے ٹیکس مقدمات سے 322 ارب روپے وصول کرنا ہوں گے

پاکستان کے International Monetary Fund نے Federal Board of Revenue کی کمزور کارکردگی کے باعث ایک اہم پیشگی شرط عائد کر دی ہے جس کے تحت 322 ارب روپے کی وصولی لازمی قرار دی گئی ہے،
حکام نے بتایا کہ یہ شرط حالیہ مذاکرات کے دوران طے پائی جس کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ ممکن ہوا، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے نے محصولات میں کمی اور ادارہ جاتی کمزوریوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ حکام کے مطابق یہ رقم زیادہ تر سپر ٹیکس مقدمات سے حاصل ہوگی جن پر عدالتیں فروری کے اختتام تک فیصلے دے چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نہ صرف اصل ٹیکس رقم وصول کر رہا ہے بلکہ تاخیر سے ادائیگی پر 25 فیصد تک سرچارج بھی عائد کیا جا رہا ہے، جس سے مجموعی وصولی میں اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑی حد تک رقم پہلے ہی اکٹھی کی جا چکی ہے اور مکمل ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔
پاکستان کو توقع ہے کہ شرط پوری ہونے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ مئی کے اوائل میں اجلاس کرے گا، جس میں منظوری کی صورت میں تقریباً ایک ارب ڈالر ای ایف ایف کے تحت جبکہ 210 ملین ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت جاری ہوں گے۔ اس سے دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایف بی آر رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں اپنے اصل ہدف سے 640 ارب روپے پیچھے رہ گیا ہے۔ ادارے نے اس کمی کی وجہ بجلی، تیل اور گیس کے شعبوں سے کم وصولی کو قرار دیا ہے، جو ماضی میں ٹیکس آمدن کے بڑے ذرائع رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب گزشتہ برسوں میں تقریباً 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی کمزوری بار بار آئی ایم ایف پروگرامز کی ضرورت کا باعث بنتی رہی ہے۔
ایف بی آر حکام نے مذاکرات میں مؤقف اختیار کیا کہ مالی سال کے پہلے نصف میں کچھ کمی کو پیٹرولیم لیوی میں اضافے اور صوبائی سرپلس سے پورا کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیلابی اخراجات کم رہنے اور پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں کی ادائیگی سے بھی مالی دباؤ میں کمی آئی۔
پاکستان میں پیٹرولیم لیوی حالیہ برسوں میں اہم نان ٹیکس ریونیو بن کر ابھری ہے، جو سالانہ 700 ارب روپے سے زائد تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس کا انحصار عالمی تیل قیمتوں پر ہونے کے باعث یہ پائیدار ذریعہ نہیں۔
دریں اثنا وزیراعظم Shehbaz Sharif نے ایف بی آر کے قانونی معاملات بہتر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے، جس کا مقصد طویل عدالتی تنازعات اور تاخیر سے ہونے والی وصولیوں کے مسائل حل کرنا ہے۔
یہ ٹاسک فورس ٹیکس نظام کے تمام مراحل کا جائزہ لے گی، جن میں ابتدائی فیصلے، اپیلیں، ٹریبونلز، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ شامل ہیں۔ اس کا ہدف نظام میں موجود کمزوریوں، وسائل کی کمی اور طریقہ کار کی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا ہے۔
حکام کے مطابق ایف بی آر کے تقریباً دو ہزار ارب روپے سے زائد کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں، جو محصولات کی وصولی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کے جلد حل سے نہ صرف آمدن بڑھے گی بلکہ کاروباری اعتماد بھی بحال ہوگا۔
آئی ایم ایف نے ایف بی آر کی اندرونی گورننس پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصلاحاتی اقدامات ابھی مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ ادارہ ٹیکس نظام میں شفافیت، آڈٹ کے نظام کی بہتری اور اختیارات کے محدود استعمال پر زور دے رہا ہے۔
پاکستان کی مالی پوزیشن کا دارومدار اب ان اصلاحات پر ہے، جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور محصولات بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 322 ارب روپے کی وصولی اس سمت میں ایک اہم امتحان تصور کی جا رہی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں پیش رفت یہ طے کرے گی کہ پاکستان کو مالی معاونت بروقت ملتی ہے یا نہیں، جبکہ International Monetary Fund کے ساتھ تعاون ملک کی معاشی سمت کا تعین کرتا رہے گا۔
UrduLead UrduLead