بدھ , اپریل 8 2026

59 ارب روپے ایڈجسٹمنٹ کی درخواست

نیپرا 22 اپریل کو درخواست پر سماعت کرے گا

K-Electric نے سات سالہ ٹیرف مدت کی ایڈجسٹمنٹس کی مد میں تقریباً 58 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست جمع کرا دی، جس پر National Electric Power Regulatory Authority 22 اپریل 2026 کو سماعت کرے گا۔

کے الیکٹرک کی جانب سے دائر درخواست 2017 سے 2023 تک کی مدت کا احاطہ کرتی ہے، جس میں ایکسچینج ریٹ میں اتار چڑھاؤ، ورکنگ کیپیٹل کی لاگت اور سرمایہ کاری سے متعلق ایڈجسٹمنٹس شامل ہیں۔ کمپنی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان عوامل نے مالی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا، جس کا ازالہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے ضروری ہے۔

درخواست کے مطابق اینڈ آف ٹرم ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 43 ارب 62 کروڑ روپے مانگے گئے ہیں، جبکہ ٹیکسز اور دیگر پاس تھرو اخراجات کی مد میں مزید 15 ارب 32 کروڑ روپے کی وصولی کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ مجموعی طور پر تقریباً 59 ارب روپے بنتے ہیں، جو صارفین پر ممکنہ مالی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

نیپرا نے اس درخواست پر باقاعدہ سماعت کا اعلان کرتے ہوئے عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بھی آراء طلب کر لی ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق تمام فریقین کو موقع دیا جائے گا کہ وہ مجوزہ ایڈجسٹمنٹس پر اپنی رائے پیش کریں، تاکہ شفاف فیصلہ سازی ممکن ہو سکے۔

پاکستان کے پاور سیکٹر کو گزشتہ چند برسوں میں مالی دباؤ، گردشی قرضے اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق روپے کی قدر میں نمایاں کمی نے درآمدی ایندھن اور کیپیٹل اخراجات کو مہنگا کیا، جس کا اثر بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑا۔

کے الیکٹرک، جو کراچی میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی ذمہ دار واحد یوٹیلیٹی ہے، ماضی میں بھی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس اور لوڈشیڈنگ کے معاملات پر تنقید کا سامنا کرتی رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مالی استحکام کے بغیر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور بلاتعطل فراہمی ممکن نہیں۔

حالیہ مہینوں میں کراچی میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بھی کمپنی کا مؤقف سامنے آیا، جس میں بجلی چوری، نقصانات اور ادائیگیوں کی کمی کو اہم عوامل قرار دیا گیا۔ توانائی ماہرین کے مطابق پاور سیکٹر میں اصلاحات، سبسڈی کے بہتر ہدف اور ریگولیٹری شفافیت کے بغیر صارفین پر بوجھ کم کرنا مشکل ہوگا۔

نیپرا کی آئندہ سماعت میں کے الیکٹرک کی مالی ضروریات، صارفین پر اثرات اور مجموعی توانائی پالیسی کے تناظر میں فیصلہ متوقع ہے، جو ملک کے پاور سیکٹر کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSL11: لاہور مرحلہ مکمل

ملتان سلطانز سرفہرست، وقفے کے بعد ایونٹ کراچی میں دوبارہ شروع Pakistan Super League سیزن …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے