
سلطان اورحان بے کی تاج پوشی کے بعد سلطنتِ عثمانیہ میں ایک نئے اور منظم دور کے آغاز کو تاریخی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جسے معروف تاریخی ڈراما “اورحان غازی” کے سیزن 1 میں بھی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ڈرامے کے ابتدائی مناظر میں اورحان بے کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنے والد عثمان غازی کی میراث کو صرف فتوحات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ایک مضبوط ریاستی نظام قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ کہانی میں واضح کیا گیا ہے کہ سلطنت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سرحدوں اور پیچیدہ ہوتے انتظامی امور نے ایک باقاعدہ حکومتی ڈھانچے کی ضرورت کو ناگزیر بنا دیا تھا۔
سیزن 1 کے ایک اہم درباری منظر میں اورحان بے اپنے قریبی ساتھیوں اور بزرگوں سے مشاورت کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی پس منظر میں وہ اپنے بھائی علاؤالدین علی کی دانشمندی، تدبر اور دیانت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ریاستی نظم و نسق کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ڈرامے میں اس تقرری کو محض خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی انتظامی اصلاح کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
کہانی کے مطابق علاؤالدین علی کو سلطنت کا پہلا باقاعدہ وزیر مقرر کیا جاتا ہے، جو بعد ازاں وزیرِ اعظم کے منصب کی بنیاد بنتا ہے۔ ڈراما اس فیصلے کو سلطنتِ عثمانیہ کو قبائلی طرزِ حکمرانی سے نکال کر ایک منظم ریاستی نظام کی طرف لے جانے والا اہم موڑ قرار دیتا ہے۔

سیزن 1 میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ اس نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت فوجی اور سول امور کو الگ الگ مگر مربوط انداز میں چلانے کی سوچ سامنے آتی ہے۔ وزراء، پاشاؤں اور فوجی کمانڈروں کے کردار واضح کیے جاتے ہیں تاکہ نظم و ضبط اور فیصلہ سازی میں بہتری لائی جا سکے۔ یہ پیش رفت سلطنت کو محض تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ نظم و قانون کی بنیاد پر مستحکم کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کی گئی ہے۔
ڈرامے کی کہانی میں اورحان بے کو ایک ایسے حکمران کے طور پر ابھارا گیا ہے جو فتوحات کے ساتھ ساتھ انصاف، مشاورت اور ادارہ جاتی استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ علاؤالدین علی کی تقرری کو اسی وژن کا عملی اظہار دکھایا گیا ہے۔
یوں “اورحان غازی” کا سیزن 1 نہ صرف ایک تاریخی لمحے کو ڈرامائی انداز میں زندہ کرتا ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کی اصل طاقت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مضبوط انتظامی بنیادوں کے قیام میں بھی پوشیدہ تھی۔
UrduLead UrduLead