
پاکستان کے بالائی علاقوں میں حالیہ برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم شدید سردی کی لہر برقرار ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ آزاد کشمیر، مری اور گردونواح میں برفباری رکنے کے بعد ہر طرف سفید چادر بچھ گئی ہے جبکہ بجلی کی معطلی اور سڑکوں کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں خصوصاً وادیٔ نیلم میں درجہ حرارت منفی 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ شدید سردی کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے، جس سے گھریلو صارفین، کاروباری سرگرمیاں اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ سرد موسم اور پھسلن کے باعث تعلیمی اداروں میں حاضری کم اور روزمرہ نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔
مری، ایبٹ آباد، نتھیاگلی، ایوبیہ اور ٹھنڈیانی میں برفباری کے بعد ہر سو سفیدی چھا گئی ہے۔ ان علاقوں میں رابطہ سڑکوں پر برف جمنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جبکہ کئی مقامات پر آمدورفت مکمل طور پر بند ہو گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کا عمل جاری ہے، تاہم مسلسل سردی کے باعث مشکلات برقرار ہیں۔
ادھر گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑ بھی برف سے ڈھک گئے ہیں، جہاں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بعض دیہی علاقوں میں اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ سیاحتی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ، زیارت، قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں سرد موسم نے زندگی کی رفتار سست کر دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برفباری کے باعث قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے، جبکہ بعض دیہات میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بالائی علاقوں میں سرد موسم برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بعض علاقوں میں دوبارہ بارش یا ہلکی برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور سردی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ متعلقہ ادارے صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔
UrduLead UrduLead