
پاکستان کے بیشتر علاقوں میں جنوری 2026 کے آخر میں مغربی ہواؤں کے ایک طاقتور سلسلے کے داخل ہونے سے بارش، گرج چمک اور پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے، جس نے ملک بھر میں سردی کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سسٹم بلوچستان سے شروع ہو کر خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب اور سندھ تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بلند مقامات پر برف باری سے نظام زندگی متاثر ہوا ہے۔
بلوچستان میں کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، خانوزئی اور دیگر بالائی علاقوں میں شدید برف باری اور بارش سے متعدد شاہراہیں بند ہو گئیں۔ زیارت میں درجہ حرارت منفی 9 سے منفی 12 ڈگری تک گر گیا، جبکہ کوئٹہ میں گیس پریشر کی کمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
شمالی اور وسطی بلوچستان میں 2 سے 3 فٹ تک برف پڑنے کی اطلاعات ہیں، جس سے قومی شاہراہیں اور مقامی راستے بند ہو گئے۔شمالی علاقوں میں برف باری کی شدت عروج پر ہے۔

گلگت بلتستان (ہنزہ، سکردو، استور، گلگت) اور آزاد کشمیر (نیلم ویلی، مظفرآباد، باغ، پوچھ، راولاکوٹ) میں شدید برف باری جاری ہے، جہاں کئی فٹ برف پڑ چکی ہے۔
خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور دیگر اضلاع میں بھی بارش اور برف باری سے سڑکیں پھسلن بھری اور بند ہو گئیں۔ وادی تیراہ میں برف باری سے متاثرہ 2 ہزار 400 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی، جبکہ مری اور گلیات میں برف باری کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کے داخلے محدود کر دیے ہیں تاکہ ٹریفک اور حفاظتی مسائل سے بچا جا سکے۔
موٹرویز پر بھی ہلکی بارش سے احتیاط کی اپیل کی گئی ہے۔سندھ میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر اور دیگر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے گرمی میں کچھ ریلیف ملا لیکن سردی کی لہر جاری ہے۔ بالائی سندھ میں 26 جنوری کو مزید بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 25 سے 27 جنوری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس میں بلوچستان، کے پی، جی بی، کشمیر اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں مزید شدید بارش اور برف باری کا امکان ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور سڑکوں کی بندش کا خطرہ موجود ہے۔
این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے الرٹ پر ہیں، جبکہ ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔شہریوں سے اپیل ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، موسم کی تازہ اطلاعات چیک کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شدید سردی کے باعث پینے کے پانی کی قلت، بجلی اور گیس کے مسائل بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead