پیر , فروری 9 2026

معاشی بہتری کے دعوے، مگر خطرات بدستور برقرار

اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے میکرو اکنامک حالات میں بہتری اور مہنگائی کے قابو میں رہنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال، کمزور محصولات اور موسمیاتی خطرات اب بھی معیشت کے لیے سنجیدہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اپنی ششماہی زری پالیسی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مثبت اشاریوں کے باوجود خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

بینک دولتِ پاکستان کے مطابق رپورٹ کا مقصد بیرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ابلاغ بہتر بنانا اور زری پالیسی کی تشکیل میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محتاط زری پالیسی اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث مجموعی معاشی حالات میں کچھ بہتری آئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے توقع ظاہر کی ہے کہ مالی سال 2026ء اور 2027ء کے بیشتر عرصے میں مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رہے گی۔ تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جہاں بلند تجارتی خسارہ کارکنوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور متوقع سرکاری آمدنی سے جزوی طور پر پورا ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر جون 2026ء تک 18 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں اور مالی سال 2027ء میں ان میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسی طرح معاشی سرگرمی میں بہتری کے آثار کے ساتھ حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 2026ء میں 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال 2027ء میں نمو مزید بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال، اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، محصولات کی کم وصولی اور ممکنہ موسمیاتی اثرات معیشت کے لیے بڑے خطرات ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے زور دیا ہے کہ معیشت کو پائیدار اور لچکدار بنانے کے لیے ساختی اصلاحات پر عمل درآمد تیز کرنا ناگزیر ہے۔

زری پالیسی رپورٹ میں چار خصوصی باکس بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ایک باکس میں جون 2024ء سے پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی اور زری پالیسی کی ترسیلی میکانزم پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس کا اثر 6 سے 8 سہ ماہیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرے باکس میں حرارتی نقشے (ہیٹ میپ) کے استعمال کی وضاحت کی گئی ہے جو مختلف شعبوں کے اشاریوں کو یکجا کر کے معاشی سرگرمی کی سطح جانچنے میں مدد دیتا ہے۔ آخری دو باکس اسٹیٹ بینک کے سرویز اور نجی شعبے سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ منظم مکالمے کی اہمیت پر مرکوز ہیں، جن کا مقصد ڈیٹا پر مبنی زری پالیسی کو مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ مجموعی طور پر محتاط امید کا پیغام دیتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی شامل ہے کہ اصلاحات کے بغیر موجودہ بہتری دیرپا ثابت نہیں ہو سکے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ورلڈ کپ 2026: پاکستان بمقابلہ امریکہ

کولمبو میں 10 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے