پیر , فروری 9 2026

شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا پہلا دورہ

سفارتی حساسیت، انسانی حقوق اور بدلتا سعودی منظرنامہ

برطانوی شاہی محل کے ایک ذریعے کے مطابق جب برطانوی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کے دورے کی درخواست آئی تو شہزادہ ولیم حیران نہیں ہوئے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ پرنس آف ویلز اپنے آئینی اور سفارتی کردار کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں، اسی لیے حکومت کی درخواست پر وہ اس دورے کے لیے تیار ہوئے۔

یہ شہزادہ ولیم کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے سفارتی لحاظ سے خاصا حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ان کے ایسٹونیا، پولینڈ، برازیل اور جنوبی افریقہ کے دورے نسبتاً کم پیچیدہ تھے، تاہم سعودی عرب کا موجودہ دورہ ایک مختلف پس منظر رکھتا ہے۔

پیر سے شروع ہونے والے اس دورے کے ایجنڈے میں توانائی کے شعبے میں تعاون اور نوجوانوں پر توجہ شامل ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب سعودی عرب میں معیشت اور سماجی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور تیل پر انحصار کم کر کے دیگر شعبوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

شہزادہ ولیم کی دادی، ملکہ الزبتھ کے طویل دورِ حکومت کے دوران کا سعودی عرب آج کے سعودی عرب سے خاصا مختلف ہے۔ اگرچہ ملک میں مطلق العنان طرزِ حکومت برقرار ہے، تاہم ثقافتی سرگرمیوں، تفریحی میلوں اور عالمی کھیلوں کے انعقاد کے ذریعے سعودی معاشرے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ ریاض کامیڈی فیسٹیول، ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، فارمولا ون ریس اور 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے منصوبے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی قیادت پر الزام لگاتی ہیں کہ کھیل اور تفریح کے ذریعے انسانی حقوق کے ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ جب تک اقدامات سعودی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوں، انہیں تنقید کی پروا نہیں۔

دورے کا ایک اہم پہلو شہزادہ ولیم اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہے، جنہیں سعودی عرب کا اصل طاقتور حکمران سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہزادہ ولیم کو اس ملاقات سے قبل انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور محمد بن سلمان کی سیاسی ساکھ سمیت کئی حساس امور پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

اگرچہ شاہی محل نجی ملاقاتوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا، تاہم سفارتی نزاکت کے پیش نظر یہ امکان کم ہے کہ ان موضوعات پر کھل کر گفتگو سامنے آئے۔ اس دورے میں لندن میں برطانوی دفتر خارجہ اور سعودی عرب میں برطانوی سفارتخانہ شہزادہ ولیم کی رہنمائی کرے گا۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب جمال خاشقجی کے قتل اور جیفری ایپسٹین اسکینڈل جیسے معاملات عالمی سطح پر سعودی عرب اور برطانوی شاہی خاندان دونوں کے لیے حساسیت کا باعث رہے ہیں۔ اس کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت محمد بن سلمان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے شہزادہ ولیم کو ایک مؤثر سفارتی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دورہ دو شاہی خاندانوں کے درمیان تعلقات کو مزید قریب لانے کا باعث بنے گا اور شہزادہ ولیم کے لیے بطور عالمی مدبر ان کے کردار کو مضبوط کرنے کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

لاہور اور اسلام آباد میں مارکیٹس کھلی رہیں

کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن، پشاور میں جزوی احتجاج مجموعی طور پر ہڑتال کال کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے