کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن، پشاور میں جزوی احتجاج

مجموعی طور پر ہڑتال کال کا اثر محدود رہا، جہاں پنجاب اور اسلام آباد میں ردعمل کمزور تھا، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں زیادہ اثر نظر آیا۔
8 فروری 2026 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سربراہی میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کی جانب سے 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔
یہ دن انتخابات کی دوسری سالگرہ اور اسلام آباد میں جمعہ کو امام بارگاہ پر خودکش دھماکے میں 36 سے زائد افراد کی شہادت کے بعد یوم سوگ کے طور پر بھی منایا جا رہا ہے۔تاہم ہڑتال کال کا اثر ملک بھر میں یکساں نہیں رہا۔
لاہور اور اسلام آباد میں زیادہ تر مارکیٹس اور بازار کھلے رہے۔ لاہور میں اتوار اور بسنت کے آخری دن کی وجہ سے مارکیٹس معمول کے مطابق بند تھیں، جبکہ اسلام آباد میں ہفتہ وار بازار H-9 سمیت دیگر علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد خریداری کرتی رہی۔

ٹریفک رواں دواں رہا اور عوام نے ہڑتال کال پر عمل درآمد نہیں کیا۔ ایک تاجر نے بتایا کہ “ہم روزی روٹی کے مسائل میں ہیں، دکان بند کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتے۔”
پشاور میں جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ اندرونی شہر کے قصہ خوانی بازار اور دیگر گلیوں میں دکانیں کھلی رہیں، جبکہ ہشت نگری اور رام پورہ میں بند رہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ہشت نگری چوک پر جمع ہو کر ریلی نکالی اور چوک یادگار پر جلسہ کیا جہاں پارٹی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ ہڑتال شام 5 بجے کے بعد ختم ہو گئی۔ ہری پور بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پبلک ٹرانسپورٹ پہیہ جام رپورٹ ہوا۔
کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام دیکھا گیا۔ تمام دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز بند رہے، سڑکوں پر ٹریفک کم تھا اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔ پی ٹی آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PkMAP) کے کارکنوں نے مظاہرے کیے۔
کچھ علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور سڑکیں کھول دی گئیں۔ چمن، قلعہ سیف اللہ، پشین اور دیگر اضلاع میں چھوٹے مظاہرے اور سڑک بلاک کرنے کی کوششیں رپورٹ ہوئیں، جنہیں پولیس نے منتشر کیا۔
سندھ میں کراچی کے کئی بازاروں میں دکانیں بند رہیں، لیکن تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ یہ اتوار کی چھٹی کی وجہ سے تھا۔
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ریفرنڈم ہے اور عوام نے خود دکانیں بند کیں۔پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ہڑتال آئینی طریقہ ہے جس سے نظام کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ووٹ چوری اور دہشت گردی پر سوگ منانے کا اعلان کیا۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے تصدیق کی کہ پروگرام ملتوی یا منسوخ نہیں ہوا۔حکومت اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کی تردید کی ہے۔
UrduLead UrduLead